ذرہ برابر کمی نہ آئی، تمام آزمائشوں پر راضی رہے اور ظاہری و باطنی طور پربالکل کوئی شکوہ نہ کیا ۔چنانچہ، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکو ندا دی گئی: ’’اے ایوب ! تو نے ہماری آزمائشوں پر صبر کیا توہم تجھے تیرا مال اوراولاد لوٹا دیں گے اور تیرے جسم کو آزمائش سے عافیت بخشیں گے اور تیرا نام اپنی آخری کتاب میں لکھ دیں گے اور تیرا ذکر محبوب بندوں کے رجسٹر میں پھیلا دیں گے۔‘‘ (الروض الفائق، ص۸۷)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کم مال والا پہلے جنت میں چلا گیا
ایک بزرگ فرماتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی اورکوئی کہنے والا کہہ رہاہے:’’اے مالک بن دینار!اے محمد بن واسع! (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا) تم دونوں جنت میں جاؤ ۔‘‘ میں دیکھنے لگا کہ دونوں میں سے کون پہلے جاتاہے تو حضرتِ سیِّدُنا محمد بن واسِع عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الرَّافِعْ جنت میں پہلے داخل ہوئے۔ میں نے سبب دریافت کیا تو بتایا گیاکہ دنیامیں محمدبن واسع عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الرَّافِعکے پاس ایک قمیص تھی جبکہ مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الغَفَّاردو قمیصوں کے مالک تھے( اس لئے پیچھے رہ گئے )۔‘‘حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن معاذعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں :’’میزان میں فقر وغَنا نہیں رکھا جائے گابلکہ صبر وشکر رکھا جائے گا، لہٰذا آؤ! ہم سب صبر وشکر کرنے والے بن جائیں۔‘‘ (الروض الفائق، ص۹۲)
مد نی گلد ستہ
’’صبر سے جنت‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حد یث مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1)مومن کے لئے مصیبت ونعمت دونوں ہی میں خیرہے ۔