فرمایا:اگر میں محبوب کے ساتھ تعلق میں ثابت قدم رہا تو ضرور صبرکروں گا یہاں تک میرے بارے میں یوں کہا جائے : یہ انتہائی تعجب خیز بندہ ہے۔ پھر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو یہ نِدا کی گئی :اے ایوب ! آزمائش کے لئے تیار ہو جاؤ اور میرا حکم و فیصلہ نازل ہونے تک صبرکرتے رہو۔ آپ کی آزمائش کا سبب یہ تھا کہ ابلیسِ لعین نے حسد کی وجہ سے طرح طرح کے مکروحیلے سے آپ پر غالب ہونا چاہالیکن نہ ہو سکاتو کہنے لگا :یااللہعَزَّوَجَلَّ ! ایوب شکر گزار بندہ ہے وہ اس لئے فرمانبردار ہے کہ تو نے اسے مال، رزق اوراولاد میں وسعت عطا فرمائی اور صحت بخشی ہے، اگر تویہ سب کچھ واپس لے لے تو ایک لمحہ بھی تیری اطاعت نہ کرے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا: وہ اپنی حالت ہرگز تبدیل نہ کرے گا۔ چنانچہ، آزمائش شروع ہوئی اور آپ کی ساری اولاد لے لی گئی اس پر آپعَلَیْہِ السَّلَاماور زیادہ عبادت کر نے لگے۔ دوسرے دن مال جلا دیا گیا تو فرمایا :تمام عطائیں اُسی کی ہیں ، چاہے لے لے چاہے باقی رکھے ۔ تیسرے دن آپعَلَیْہِ السَّلَامصبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ شیطانِ لعین نے آپعَلَیْہِ السَّلَامکے جسم پر پھونک ماری تو آپعَلَیْہِ السَّلَامجسمانی بیماری میں مبتلا ہوگئے، لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَامظاہر و باطن میں اللہعَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتے رہے۔ مال واولاد چلے جانے کے بعد جب آپ عَلَیْہِ السَّلَامجسم کی آزمائش میں مبتلا ہوئے توفرمایا: تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے مجھے اپنی عبادت کے لئے چُن لیا اورمجھ پر اپنا خاص فضل اور بھلائی فرمائی اور مجھے اپنے علاوہ کسی چیزمیں مشغول نہ رکھا۔ حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہمیشہ ذکر کرتے رہے اوراپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی حمداور شکر بجا لاتے رہے۔
آزمائش انسان کے احوال کوظاہرا ور محبت کے دعوے دار کی حالت بہت جلد واضح کردیتی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے نبی حضرت ایُّوبعَلَیْہِ السَّلَامپر ستر ہزار قسم کی آزمائشیں نا زل فرمائیں لیکن آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے صبر وشکر کیا اورشِکْوَہ نہ کیا۔ تو اے بھائیو! تم تو ایک کانٹا بھی برداشت نہیں کر سکتے جبکہ حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلَیْہِ السَّلَامکو اولاد لے کرآزمایا گیا مگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے عبادت میں اضافہ کر دیا، مال لے لیا گیا مگر محبت ِ الٰہی میں