ناخن ٹوٹ گیا تووہ مسکرانے لگیں۔پوچھا گیا: کیا آپ کو درد نہیں ہورہا؟ فرمایا: اس درد پر صبر کرنے کے عوض ملنے والے ثواب نے میرے درد کی تلخی دور کردی ہے۔ (احیاء العلوم، ۴/۹۰)
مومن کاتقویٰ تین باتوں سے ظاہر ہوتا ہے
حضرتِ سَیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرتِ سَیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا : مومن کا تقویٰ تین باتوں سے ظاہر ہوتا ہے: (۱) جو کچھ نہیں ملا اس کے بارے میں کامل توکل کرنا (۲) جو کچھ پاس موجو دہو اس پر راضی رہنا (۳) جو لے لیا گیا اس پر خوب صبر کرنا ۔ (احیاء العلوم ، ۴/۹۰)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی تعظیم اور اس کے حق کی معرفت
راحتِ قلبِ ناشاد،محبوبِ ربُّ الْعِباد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی تعظیم اور اس کے حق کی معرفت کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اپنے در د کی شکایت کرے نہ ہی دوسروں کے سامنے اپنی مصیبت کا تذکرہ کرے۔‘‘
دوران جنگ حضرتِ سَیِّدُنا سالم رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہ شدید زخمی تھے کسی نے انہیں پانی پلانا چاہا تو فرمایا: مجھے دشمن کے قریب کر دو اور پانی میرے پاس رکھ دو اگر میں زندہ رہا تو اس پانی سے روزہ افطار کر لوں گا ۔ (احیاء العلوم، ۴/۹۰) سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!ایسے لوگ واقعی حقیقی صبر والے ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں دنیا وآخرت میں عافیت عطا فرمائے! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
حضرتِ سیِّدنا ایُّوب عَلَیْہِ السَّلَام کا صبر
جب حضرتِ سیِّدُنا ایوبعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی آزمائش کا وقت قریب آیاتوحضرتِ سیِّدُنا جبرائیل عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حاضر ہوکر عرض کی: اے ایوب (عَلَیْہِ السَّلام)! عنقریب آپ کاربّ عَزَّوَجَلَّ آپ پر ایسی آزمائش اورہولناک معاملہ نازل فرمائے گا کہ جسے پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔ حضرتِ سیِّدُنا ایوب عَلَیْہِ السَّلَامنے