السَّلَام سے فرماتا ہے کہ اے جبرئیل! جب میں اپنے کسی بندے کی بنائی لے لوں تو اس کا اجر یہ ہے کہ میں اسے اپنے دیدار سے مشرف فرماؤنگا ۔(معجم الاوسط، من اسمہ مقدام، ۶/۳۰۴، حدیث:۸۸۵۵)
حضرتِ سَیِّدُنا ابو القاسم عبد الکریم قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے منقول ہے :ایک بزرگ فرماتے ہیں : میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ طوافِ کعبہ کے بعد جیب سے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکال کر پڑھتا اور چلا جاتا ۔کئی دن تک میں اسے اسی حالت میں دیکھتا رہا پھر ایک دن اس کا انتقال ہوگیا تو میں نے اس کی جیب سے کاغذ نکال کر دیکھا تو اس پر لکھاہوا تھا:
وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا (پ ۲۷، الطور:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اے محبوب تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو کہ بے شک تم ہماری نگہداشت میں ہو۔
(رسالہ قشیریۃ، باب الصبر، ص۲۲۲)
مصیبت کے وقت آنسو بہانے اور غمگین ہونے سے صبر کی فضیلت میں کوئی فرق نہیں آتا،ہاں واویلا کرنے، کپڑے پھاڑنے اور شکایت کرنے سے اجر میں خلل واقع ہوتا ہے۔(کیمائے سعادت، ۲/۷۸۳)
صبرِ جمیل کیا ہے؟
صبر جمیل یہ ہے کہ دیکھنے والا مصیبت والے اور غیر مصیبت والے میں فرق محسوس نہ کرسکے ۔ مصیبت میں کپڑے پھاڑنا، سر اور منہ پر ہاتھ مارنا، سینہ پیٹنا، چیخنا چلّانا یہ تمام باتیں حرام ہیں۔
کسی مصیبت میں مبتلا ہونے پر اپنا حال بدل لینا، چادر سے منہ ڈھانپ کر پڑے رہنا ، اپنی دستار چھوٹی کرلینا، درست نہیں ہے بلکہ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اللہعَزَّوَجَلَّنے اپنے بندے کو بغیر بندے کی مرضی کے پیدا کیا اور پھر بغیر اس کی مرضی کے اُسے اٹھالیا۔(کیمائے سعادت، ۲/۷۸۳)
ناخن ٹوٹنے پرخوشی کا اظہار
حضرتِ سَیِّدُنا فَتْح مَوْصِلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی زوجہ محترمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کا پاؤں پھسلااور ان کا