Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
320 - 627
رحمتِ کامِلہ کے سائے میں 
	اللہ عزوجل فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کو بیماری میں مبتلا کروں اور وہ اس پر صبر کرے،کسی سے شکایت نہ کرے تو میں اس کے گوشت کو اچھے گوشت سے اور اس کے خون کو اچھے خون سے بدل دیتا ہوں۔ پھر اگر میں اسے شفا دوں تو ایسی شفا دیتا ہوں کہ اس کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں رہتا اور اگر میں اسے دنیا سے اٹھالوں تو اسے اپنی رحمتِ کاملہ کے سائے میں لے جاتا ہوں۔‘‘(کنز العمال، کتاب المواعظ والرقاق والخطب والحکم، قسم الاقوال، ۸/۳۴۳، حدیث:۴۳۲۲۰، الجزء الخامس عشر)
ایمان کی خِلْعَتْ
	حضرتِ سَیِّدُنا دا وٗدعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارِگاہ الٰہی میں عرض کی: یا اللہ عَزَّوَجَلَّ!جو بندہ تیری رضا کے لئے مصائب وآلام پر صبر کرے تو تیرے ہاں اس کی کیا جزا ہے؟ارشاد فرمایا :’’میں اسے ایمان کی خِلْعَت (یعنی عزت والا لباس ) عطا فرماؤں گااور اس لباس کو اس کے اور جہنم کے درمیان آڑ بنا دوں گا اور اسے جنت میں داخل کروں گا۔‘‘ 		      (شعب الایمان ، الرابع والستون ، باب فی الصلاۃ علی من مات من اہل القبلۃ، ۷/۱۲، حدیث:۹۲۸۰)
میزانِ عمل سے نجات کا نسخہ 
	حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کے بدن یا اس کے مال یا اس کی اولاد کی طرف کوئی مصیبت بھیجوں پھر وہ صبر جمیل کے ساتھ اس کا استقبال کرے تو قیامت کے دن مجھے اس سے حیا آئے گی کہ میں اس کے لیے میزان قائم کروں یا اس کا نامۂ اعمال کھولوں۔ 	(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال،۲/۱۱۵، حدیث:۶۵۵۸، الجزء الثالث)
 دِیدارِ اِلٰہی
	 تمام نبیوں کے سردار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’  اللہ عَزَّوَجَلَّ جبریل عَلَیْہِ