وبرکت والے ہیں اگرچہ بعض اُمور ظاہری طور پر شر محسوس ہوتے ہیں لیکن درحقیقت وہ خیر پر مبنی ہوتے ہیں اگر مومن کو تنگدستی وفاقہ پہنچتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے ۔ حدیثِ قدسی ہے :’’ میرے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ ان کو فَقْر (تنگی) دُرُست رکھتاہے اگر ان کو میں غنی (مالدار) کردوں تو وہ اپنے حال کو بگاڑ دیں اورکچھ بندے ایسے ہیں کہ ان کو غَنا ہی دُرُست رکھتاہے اگر میں ان کو فقیر کر دوں تو اپنی حالت کوبگاڑ ڈالیں۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ مومن کے لئے خیر ہی کا فیصلہ فرماتا ہے۔‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ مسلمان کے لئے تعجب ہے کہ اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کرتاہے اور جب خیر کی بات پہنچتی ہے تو حمدو شکر بجا لاتا ہے ،بے شک ! مسلمان کو ہر کام کا اَجر دیاجائے گایہاں تک کہ جو لقمہ وہ اپنے منہ میں ڈالتا ہے (اس کا بھی ثواب پائے گا )۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۹ /۱۵۲، ۱۵۳، تحت الحدیث:۵۲۹۷)
قراٰنِ پاک سے صبر کی اقسام
حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُ اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ قراٰنِ کریم میں تین قسم کا صبر بیان ہوا ہے :
( 1) وہ صبر جو طاعت میں ہو ،اس کے ثواب کے تین سو درجے ہیں۔
(2) وہ صبر جو حرام چیزوں سے بچنے پر کیا جائے، اس کے ثواب کے چھ سو درجے ہیں۔
(3) وہ صبر جو مصیبت کی ابتدا میں کیا جائے، اس کے ثواب کے نو سو درجے ہیں۔
بَلا پر صبر کرنا’’ صدیقوں ‘‘ کا درجہ ہے اس لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یوں مناجات فرمایا کرتے تھے: ’’ اے ہمارے پر وردگا رعَزَّوَجَلَّ ! ہم کو اتنا یقین عطا فرما کہ دنیا کی مصیبتوں کا برداشت کرنا ہمارے لئے آسان ہوجائے۔‘‘ (احیاء العلوم،۴/۸۹)