Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
318 - 627
حدیث نمبر:27	مومن کو اچھا ثابت کرنے والا عمل
	عَنْ أَبِیْ یَحْیٰی عَنْ صُہَیْبِ بْنِ سِنَانٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ۔(مسلم، کتاب الزھد والرقائق، باب المؤمن امرہ کلہ خیر، ص ۱۵۹۸، حدیث :۲۹۹۹)
	ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا صُہَیْب بِنْ سِنَان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہسرکارِ دو عالم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مومن کا معاملہ کس قدر اچھا ہے کہ اس کا ہر معاملہ بھلائی پر مشتمل ہے اور یہ بات صرف مومن ہی کے لئے  ہے۔ اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اور اگر اسے کوئی دکھ یا تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ۔  
	عَلَّامَہمُحَمَّد عَبْدُ الرَّئُ وْف مُنَاوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِِیاس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’مومن کا ہر معاملہ تعجب انگیز ہے اس لئے کہ اس کے تمام کاموں میں بھلائی ہی بھلائی ہے جبکہ کفار ومنافقین کو اصلاً (بالکل بھی)یہ فضیلت حاصل نہیں ، اگرمومن کو صحت و سلامتی پہنچتی ہے تواس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا شکر اداکرتا ہے،یہ اس کے لئے بہتر ہے کیونکہ اسے شاکرین میں لکھ دیا جاتا ہے اورجب کوئی تکلیف دِہ بات پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اورصابرین میں لکھ دیا جاتا ہے جن کی تعریف قراٰن کریم میں بیان کی گئی ہے، پھر جب تک وہ تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اس پر رحمت کے دروازے کھلے رہتے ہیں ،تو یہ بھی اس کے لئے بہتر ہے ۔ لہٰذاہر مومن کو چاہیے کہ نعمت ملنے پر مُنْعِم یعنی نعمت دینے والے کا شکر بجا لائے اور مصیبت پہنچنے پرصبرکرے اور جن چیزوں کا اسے حکم ہے انہیں بجا لائے جن سے منع کیا گیا ہے ان سے اِجْتِنَاب (پرہیز) کرے ۔‘‘(ملخصاًفیض القدیر، حرف العین، ۴/ ۳۹۹، تحت الحدیث:۵۳۸۲)
	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مِرْقَاۃُ الْمَفَاتِیْح میں فرماتے ہیں : مومن کے تمام اُمور خیر