مدنی گلدستہ
’’سوال سے بچ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1) بلا ضرورت سوال کرنے والے کو اگر ممکن ہو تو حکمت عملی کے ساتھ سوال سے روک دینا چاہیے۔
(2) جو ضرورۃ ًمانگے اُسے دے دینا چاہیے اور ہو سکے تو دوسروں سے بھی دلوانا چاہیے۔
(3) جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو بچالیتا ہے، لیکن جو لوگوں کے سامنے بِلا وجہِ شرعی دستِ سوال دراز کرتا ہے تواس کا فقر مزید بڑھ جاتا ہے۔
(4) صبر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ صبر سے بہتر اور وسیع چیز کوئی نہیں۔
(5) لوگوں کے سامنے اپنی مصیبت بیان کرنے سے بہتر ہے کہ صبر کیا جائے اور بندوں کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے امید رکھی جائے ۔
(6) مال کی محبت دل میں نفاق پیدا کرتی ہے ۔
(7)جمعِ مال بری چیز ہے لیکن اگر اِسی مال کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صَدَقہ و خیرات کیا جائے تو یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے ۔
(8) مال بڑھانے کے لئے بھیک مانگنا اپنے لئے انگارہ جمع کرنا ہے ۔
یااللہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں ہر آن اپنی رحمت کی نظر میں رکھ، دوسروں کی محتاجی سے بچا کر صرف اور صرف اپنا محتاج رکھ، دنیا کی محبت سے بچا کر اپنی اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سچی محبت عطا فرما ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم