عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل کردے وہ مال بُرا ہے۔ جبکہ وہ مال جو حلال ذریعے سے کمایا گیا ہو، جس کے ذریعے صدقہ و خیرات کی گئی ہو ، اس کی زکوٰۃ ادا کی گئی ہو اور دیگر اُمورِ خیر میں خرچ کیا گیا ہو وہ ہرگز برا نہیں بلکہ اچھا ہے ۔ فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم ہے :’’ نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّا لِحِ،ترجمہ:کیا ہی اچھا مال نیک مرد کے لئے ہے۔‘‘ (شعب الایمان ، باب التوکل باللہ والتسلیم لامرہ، ۲/۹۱، حدیث:۱۲۴۸)
فرمان مشکل کُشا
اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا مولائے کائنات ،علیُّ الْمُرْتَضٰیشیرِ خُدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ صبر وہ سواری ہے جس سے گرنے کا ڈر نہیں ہوتا۔ (رسالہ قشیریۃ، باب الصبر، ص۲۲۰)
صبر سے متعلق حضرت جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کا فرمانِ عالیشان
حضرت جنیدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں کہ مومن کے لئے دنیا سے آخرت کو جانا آسان ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر مخلوق کو چھوڑدینا مشکل ہوتا ہے پھر خواہشات چھوڑکر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف توجہ اس سے بھی مشکل ہے اور ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ پر نظر رکھ کر صبر تو اور بھی مشکل ہے ۔جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے صبر کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: بُرا جانے بغیر کڑوی چیزوں کا گھونٹ پی جاناصبر کہلاتا ہے ۔(رسالہ قشیریۃ، باب الصبر، ص ۲۱۹)
بچھو کے کاٹنے پر صبر
حضرتِ سَیِّدُنا سِرّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی سے صبر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے صبرسے متعلق بیان شروع کر دیا ، اسی دوران ایک بچھو آپ کی ٹانگ پر مسلسل ڈنک مارتا رہا لیکن آپ پُرسکون رہے ،آپ سے پوچھا گیا کہ اس موذی کو ہٹایا کیوں نہیں ؟ فرمایا:’’ مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا آرہی تھی کہ میں صبر کا بیان کروں لیکن خود صبر نہ کروں۔ (رسالہ قشیریۃ، باب الصبر، ص۲۲۳)