پُلْ صِراط پر مالداروں کی حالت
حضرتِ سَیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضرتِ سَیِّدُنا اَبو دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے لکھا :’’اے میرے بھائی! دنیا سے اتنا مال جمع نہ کرنا کہ اس کا شکر ادا نہ کرسکو۔ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’قیامت کے دن ایک ایسے دُنیا دار کولایا جاے گا جس نے دنیا میں مال کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم مانا ہوگا ،اس کا مال اس کے سامنے ہوگا جب پل صراط پر اس کے قدم لڑکھڑائیں گے تو اس کا مال کہے گا کہ چلو چلو تم نے مجھ سے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق ادا کردیا ہے۔ پھر ایک ایسے دُنیا دار کو لایا جائے گا جس نے دنیا میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق ادا نہیں کیا ہوگا تواس کا مال اس کے کاندھوں کے درمیان ہوگااور اسے پل صراط سے پھسلائے گا اور کہے گا تجھے خرابی ہو تو نے اپنے مال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق ادا کیوں نہیں کیا وہ شخص اسی حالت پر رہے گا اور کہے گا (ہائے میری) ہلاکت (ہائے میری) بربادی ۔‘‘(مصنف عبدا لرزاق، کتاب الجامع لمعمر بن راشد، باب اصحاب الاموال، ۱۰/۱۳۵، حدیث: ۲۰۱۹۸)
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
شیطان کا غلام
حضرتِ سَیِّدُنا حسن بَصْری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیِفرماتے ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !جو شخص دِرہم کی عزت کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ذلیل کرتا ہے ۔ سب سے پہلے دِرہم و دِینار تیار ہوئے تو شیطان نے اُن کو اُٹھا کر اپنی پیشانی پر رکھا پھر ان کو بوسہ دیا اور کہا: جس نے تم دونوں سے محبت کی حقیقت میں وہی میرا غلام ہے ۔ ( احیاء العلوم،۳/۲۸۸)
ہر مال بُرا نہیں ہوتا
مذکورہ بیان سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مال میں کوئی خیر نہیں اور ہر مال باعثِ ہلاکت ہے۔ بلکہ یہاں کلام اُس مال کے بارے میں ہے جسے حرام ذریعے سے کمایا گیا ہو یا جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق ادا نہ کیا گیا ہو اور جو مال اللہ