Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
314 - 627
متعدد مقامات پر جمعِ مال کی مَذَمَّت بیان کی گئی ہے ۔ چنانچہ، چند آیاتِ مبارکہ اور روایات ملاحظہ فرمائیے : 
	اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قراٰنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلْہِکُمْ اَمْوٰلُکُمْ وَ لَاۤ اَوْلٰدُکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِۚ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿۹﴾ (پ ۲۸، المنافقون: ۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں ۔
	ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَاۤ اَمْوٰلُکُمْ وَ اَوْلٰدُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕ وَ اللہُ عِنۡدَہٗۤ اَجْرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۵﴾ (پ ۲۸، التغابن: ۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان : تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں ، اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے ۔
زیادہ مال والوں کے لئے مقامِ غور
	 حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ھَلَکَ الْمُکَثِّرُوْنَ، یعنی زیادہ مال والے ہلاک ہوئے مگر وہ کہ جس نے اپنا مال اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں میں اس طرح اور اس طرح خرچ کیا ،( نیک کاموں میں خرچ کیا )اور ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔
(مسند امام احمد، ۳/۱۸۰، حدیث :۸۰۹۱)
انسان کے تین دوست 
	نبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں (۱)اس کے گھروالے (۲) اس کا مال اور(۳) اس کا عمل ۔پھر دوچیزیں واپس لوٹ آتی ہیں جبکہ ایک اس کے ساتھ باقی رہتی ہے۔گھر والے اور مال لَوٹ آتے ہیں جبکہ اس کاعمل اس کے ساتھ جاتا ہے ۔ 
 (بخاری، کتاب الرقاق،  باب سکرات الموت، ۴/۲۵۰، حدیث:۶۵۱۴)