کے چہرے پر ذِلَّت و خواری کے آثار ہوں گے، جیسے دنیا میں بھی بھکاری کا منہ چھپا نہیں رہتا، لوگ دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ سائل ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳ /۵۶)
بھیک مانگنے والا انگارہ مانگتا ہے
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے اب چاہے کم کرے یا زیادہ۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ، ۱/۵۱۰، حدیث:۱۸۳۸)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی بِلا سخت ضرورت بھیک مانگے بقدر حاجت مال رکھتا ہو زیادتی کے لیے مانگتا پھر ے وہ گویا دوزخ کے انگارے جمع کررہا ہے چونکہ یہ مال دوزخ میں جانے کا سبب ہے اِسی لیے اسے انگارہ فرمایا، اس حدیث سے آج کل کے عام پیشہ ور بھکاریوں کو عبرت لینی چاہیے ، افسوس ہے کہ آج مسلمانوں میں بھیک مانگنے کا مرض بہت زیادہ ہے، اس گناہ میں وہ بھی شریک ہیں جو اُن موٹے مسٹنڈے پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دیتے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳ /۵۵)
سائل کو دیکر اُسے سوال سے روکنا
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : زمانۂ جاہلیت میں لوگ مانگنے کو عیب نہ سمجھتے تھے بلا ضرورت بھی دستِ سوال دراز کردیتے تھے۔ نو مسلم حضرات اسی عادت کے مطابق اولاً مانگتے تھے، نبیِّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثر انہیں دے کر سوال سے منع فرماتے تھے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳/ ۵۷)
حدیث مذکور میں فرمایا گیا کہ ’’میں مال جمع نہیں کرتا‘‘ اس فرمانِ عالیشان سے پتہ چلتا ہے کہ مال کی محبت اچھی شے نہیں ، مگر افسوس!آج جسے دیکھو اُسی پر دَھن کی دُھن سوار ہے ،مال کمانے کے لئے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور مال ودولت کی محبت میں انسان جہنم کے عمیق گڑھے میں گرتا چلا جاتا ہے ۔ قراٰن وحدیث میں