Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
312 - 627
 اُن بزرگوں نے سالہا سال کھائے اور کھلائے ، پھر جب تو لے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے خَتْم ہوگئے۔ حضرت طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاں ساڑھے چارسَیر جَو کی روٹی پر سینکڑوں آدمیوں کی دعوت فرمادی۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳ /۵۹) 
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا		دریا بہا دیئے ہیں دُر بے بہا دیئے ہیں
 بلا ضرورت سوال کرنامنع ہے 
	حدیثِ مذکور میں بلا وجہ شرعی سوال کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جو سوال سے بچنا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بچائے گا اور جو غَنا چاہے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے غَنا دے گا۔ مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : یہاں مانگنے سے مراد ذِلَّت و خواری کا مانگنا ہے یعنی بھیک مانگنا، لہٰذا باپ کا اولاد سے یا آقا کا غلام سے یا اس کے برعکس یا اُن سے کچھ مانگنا جن سے مانگنے میں عار نہ ہو، مطلقاً جائز ہے، حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے شفاعت اور انعامِ الٰہیہ اور اُخروی نعمتوں کی بھیک مانگنا بادشاہوں کے لئے فخر و عزت ہے۔ اس پر علما کا اتفاق ہے کہ بلا ضرورت مانگنا ممنوع ہے ۔(مراٰۃ المناجیح۳/۵۳)
	 بلا وجہ شرعی سوال کرنے کی مَذَمَّت میں بھی بہت سی احادیث آئی ہیں۔ چنانچہ ،
بلا ضرورت مانگنے والے کے چہرے پہ گوشت نہ ہوگا
	فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے :’’ مَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّی یَأْتِیَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ فِی وَجْہِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍترجمہ: آدمی  لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہ ہوگا۔‘‘ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب من سئل الناس تکثرا ،۱/۴۹۷، حدیث:۱۴۷۴)
	مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :’’ یعنی پیشہ ور بھکاری اور بِلا ضرورت لوگوں سے مانگنے کا عادی قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں صرف ہڈی اور کھال ہوگی گوشت کا نام نہ ہوگا۔ جس سے محشر والے پہچان لیں گے کہ یہ بھکاری تھا، یا یہ مطلب ہے کہ اس کے