سوال اور دیگربُری باتوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ، جو کوئی تھوڑی غذا پر صبر کر لے اور لوگوں سے سوال نہ کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے قناعت کی دولت سے نوازتا ہے اور قناعت ایسا خزانہ ہے جوکبھی ختم نہیں ہوتا، جو کوئی بے نیازی اختیار کرناچاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بے نیازکر دیتا ہے، یعنی جو لوگوں کے مال سے بے نیاز ہو کر اپنے آپ کو غنی ظاہر کرے اور سوال کرنے سے بچے یہاں تک کہ لوگ اسے غنی سمجھنے لگیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے شخص کو دل کا غنی بنا دیتا ہے اور یہی حقیقی غَنا ہے کیونکہ کثرتِ مال سے کوئی شخص غنی نہیں ہوتا بلکہ غنی تو وہ ہے جودل کا غنی ہو اور جو صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اسے صبر کی دولت عطا فرما دیتا ہے۔ یعنی جو شخص حقیقی صبر کے حصول کے لئے تکلیف دہ اُمور پر بتکلّف صبر کرتا ہے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سے صبر کی توفیق مانگتا ہے یا اپنے آپ کو لوگوں کے مال کی طرف نظر کرنے سے روکتا اور سوال سے بچنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ا س کے لئے صبر کرنا آسان فرما دیتا ہے۔ حدیث پاک میں صبر کو انسان کے لئے سب سے اچھا اور وسیع عطیہ بتایا گیا ، کیونکہ صبر ہر اعلیٰ مقام کے حصول کے لئے لازم ہے اور صبر خود سب سے اعلیٰ مقام ہے کیونکہ صبر تمام اچھی صفات و کمالات کا جامع ہے۔قراٰن کریم میں بھی صبر کو نماز سے پہلے بیان کیا گیا فرمانِ خدا وندی ہے اِسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ۔‘‘(ترجمہ کنز الایمان: صبر اور نماز سے مدد چاہو)
(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسئلۃ ومن تحل لہ، ۴/۳۵۲ تا۳۵۳، تحت الحدیث:۱۸۴۴)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ ظاہر یہ ہے کہ یہ مانگنا بلا ضرورت تھا جیسا کہ اگلے فرمان سے معلوم ہورہا ہے۔ ضرورۃً مانگنے والوں کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود بھی دیتے تھے اور دوسروں سے بھی دلواتے تھے یعنی وہ حضرات مانگتے رہے اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دیتے رہے انہیں سب کچھ دے کر پھر مسئلہ بتایا ۔اس میں تبلیغ بھی ہے اور سَخاوَتِ مُطْلَقَہ کا اظہار بھی ۔ خیال رہے کہ جس کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچھ خوش ہوکر دیا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو تھوڑے تھوڑے جَو عطا فرمائے تھے جو