Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
310 - 627
 حدیث نمبر:26  	سوال کرنے سے، صَبْر کرنا بہتر ہے
	عَنْ أَبِی سَعِیدٍ سَعْدِ بْنِ مَالَکِ بْنِ سِنَانِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ إِنَّ نَاسًا مِّنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاہُمْ ثُمَّ سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاہُمْ حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ، فَقَالَ لَھُمْ حِیْنَ اَنْفَقَ کُلَّ شَیْئٍ بِیَدِہٖ ’’مَا یَکُوْنُ عِنْدِیْ مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ وَمَنْ یَسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اللہُ وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللہُ وَمَنْ یَتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللہُ وَمَا أُعْطِیَ أَحَدٌ عَطَائً خَیْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْر‘‘۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہ
(بخاری، کتاب الزکاۃ،  باب الاستعفاف عن المسئلہ، ۱/۴۹۶، حدیث:۱۴۶۹)
	 ترجمہ :  حضرتِ سَیِّدُنا ابو سَعِیْد خُدْرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سوال کیا آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں عطا فرمادیا انہوں نے پھر مانگا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر عطا فرمادیایہاں تک کہ جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس مال تھا وہ ختم ہو گیا۔ پس جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب چیزیں اپنے ہاتھ سے خرچ کردیں تو ارشاد فرمایا: جو کچھ میرے پاس ہوگا وہ تم سے بچا نہ رکھوں گا جو سوال سے بچنا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بچائے گا اور جو غنا چاہے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے غنی کر دے گا اور جو صَبْر چاہے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے صَبْر دے گا اور کسی کو صَبْر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۔
	 عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مرقاۃ المفاتیح میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ انصار کی ایک جماعت نے بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کرکچھ مانگا تو نبیِّ رحمت، شفیعِ امت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ان کا سوال پورا کر دیا ، انہوں نے پھر سوال کیاتو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سائلین کو عطا فرمایایہاں تک کہ اس وقت جوکچھ موجود تھا وہ ختم ہوگیا تو ارشاد فرمایا:’’ جو کچھ میرے پاس تھامیں نے تمہیں دے دیا ، نہ میں تم سے اپنی عطا روکتا ہوں نہ کوئی مال تم سے چھپا کر ذخیرہ کرتا ہوں۔جو شخص مانگنے سے بچنا چاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بچاتا ہے یعنی جو اپنے آپ کو سوال سے روکے یا سوال نہ کرنے کی توفیق اللہ عَزَّوَجَلَّ سے طلب کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے