ثواب کا ارادہ کیا وہ پورے ثواب کے ساتھ کامیاب ہوا۔جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے اوروہ صبر کرنے والوں کو ضرور ان کا اجر عطا فرمائے گا۔ ( احیاء العلوم، ۴/۷۶)
(2) جنت الفردوس میں ٹھکانا
شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :’’جو شخص دنیا میں ہی اپنی ہر خواہش کی تکمیل کرلے تویہ چیز آخرت میں اس کے اور اس کی خواہش کے درمیان آڑ اورپردہ بن جائے گی اور جو مالداروں کی زینت کی طرف اپنی نگاہیں دراز کرے تووہ آسمان والوں کے سامنے بے عزت ہو جاتا ہے اور جو شدید بھوک پر صبر کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو جنتُ الفردوس میں جہاں چاہے گا ٹھکانا عطا فرمائے گا ۔
(شعب الایمان ، باب فی الصبرعلی المصائب ، ۷/۱۲۵، حدیث۹۷۲۲)
(3) مومن کی پہچان
مکّی مَدَنی سلطان، سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانصار کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا: کیا تم مومن ہو؟ وہ خاموش رہے، اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ہاں ! یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! فرمایا :’’ تمہارے ایمان کی علامت کیا ہے؟‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: ’’ہم فراخی کی حالت میں شکر کرتے ہیں ، آزمائش کے وقت صبر کرتے ہیں ،اللہعَزَّوَجَلَّکے فیصلے پر راضی رہتے ہیں۔‘‘ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’ربِّ کعبہ کی قسم ! تم مومن ہو۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴/۷۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد