Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
307 - 627
کی برداشت میں صبر کرے تو اسے’’ ضبطِ نفس ‘‘کہتے ہیں اور اس کے خلاف حالت کو’’ بَطَر‘‘( اکڑ) کہتے ہیں اگر یہ لڑائی اور جنگ میں ہو تو اسے ’’بہادری‘‘ کہا جاتا ہے جس کا مُقَابِل   بُزْدِلی ہے، اگر غصہ پی جانے کے سلسلے میں صبر ہو تو اسے ’’  بُرْدباری‘‘ کہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں غضبناکی ہے اور اگر زمانے کی کسی آفت پر صبر ہو تو اسے ’’دل کی کشادگی‘‘ کہتے ہیں اور اس کی ضد کم حوصلگی، دل کی تنگی اور زِچ (تنگ، مجبور) ہونا ہے اگر کلام کو چھپانے کے سلسلے میں صبر ہو تو اسے’’ کِتْمَانِ سِرّ‘‘(راز چھپانا) کہا جاتا ہے، اور ایسے شخص کو کَتُوْم ( چھپانے والا) کہا جاتا ہے اگر ضروریات زندگی سے زائد اشیاء سے صبر کیا جائے تو اسے ’’زُہْد‘‘ کہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں حِرْص ہے ، اگر تھوڑے حصے پر صبر کیا جائے تو اسے’’ قَنَاعَت‘‘ کہتے ہیں اور اس کے مقابلے میں حِرْص ہے۔ الغرض ایمان کے اکثر اَخلاق صبر میں داخل ہیں اسی لیے جب نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ایمان صبر ہے ۔  (احیاء العلوم، ۴/۸۲)
	صبر بہت ہی افضل چیز ہے یہاں تک کہ اگر انسان کا نفلی روزہ ا ور رات کی ساری نفلی عبادت چھوٹ جائے تو صبر ویقین کی برکت سے اسے ان اعمال کا ثواب مل سکتا ہے۔
 ’’صَبْر‘‘ کے3 حروف کی نسبت سے صبر کے متعلق 3 روایات ملاحظہ فرمائیے :
(1)صبر اور دیگر نفلی عبادات 
	نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :جو چیزیں تمہیں دی گئی ہیں ان میں سب سے کم چیز یقین اور صبر کی عزیمت ہے اور جسے ان دونوں باتوں سے حصہ مل گیا اس کا قیامِ لیل (رات کی نفلی عبادت) اور دن کا( نفلی )روزہ فوت بھی ہوجائے تو کوئی پروا نہیں اور تم جس حالت پر ہو اس پر تمہارا صبر کرنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کوئی شخص تم سب کے عمل کے برابر عمل میرے پاس لائے، لیکن مجھے خوف ہے کہ تم پر دنیا کھول دی جائے تو تم ایک دوسرے سے اجنبی ہو جاؤ گے، اس وقت آسمان والے بھی تمہیں نہیں پہچانیں گے۔ جس نے صبر کیا اور