Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
306 - 627
	ممنوعہ کاموں سے صبر کرنا’’ فرض‘‘ ہے (جیسا کہ گناہوں سے صبر کرنا )۔ ناپسندیدہ اُمور پر صبر کرنا ’’نفل‘‘ہے (یعنی نفس کی ناپسندیدہ باتوں مثلاً نفلی عبادات صدقہ و خیرات وغیرہ پر صبر کرنا کیو نکہ اعمالِ صالحہ نفس پر بہت گراں گزرتے ہیں )۔  شرعی طور پر ممنوع اذیت پر صبر کرنا ممنوع ہے جیسے بلا وجہ کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ کاٹا جائے اور وہ اس پر صبر کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرے۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی شہوت کے ساتھ اس کی بیوی کا قَصْد کرے تو اس سے اس کی غیرت جاگ اٹھے لیکن غیرت کے اظہار سے صبر کرے اور اس کی بیوی سے جو سلوک کیا جائے اس پر خاموشی اختیار کرے تو یہ صبر’’ حرام‘‘ ہے۔ اور جو صبر ایسی اذیت پر ہو جو شرعی طور پر مکروہ طریقے سے پہنچے اس پر صبر کرنا مکروہ ہے۔گویا صبر کی کسوٹی معیارِ شریعت ہے، لہٰذا صبر کے ’’نصفِ ایمان‘‘ ہونے سے یہ مراد نہیں لینی چاہیے کہ ہر قسم کا صبر محمود( قابل تعریف )ہے بلکہ اس سے صبر کی مخصوص انواع مراد ہیں۔ (احیاء العلوم، ۴/۸۵)
صبر کے مختلف نام
	حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی  اِحیاء العلوم میں فرماتے ہیں : ’’صبر کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم ہے، بدنی صبر  جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا وہ یا تو فعل کے ذریعے ہوتا ہے جیسے سخت اعمال برداشت کرنا یا عبادات وغیرہ کے ذریعے ،یا اس کا تعلق برداشت سے ہوتا ہے مثلاً سخت مار، بہت بڑی بیماری اور تکلیف دِہ زخموں کو برداشت کرنا یہ صبر اگر شریعت کے موافق ہو تو قابل تعریف ہے۔ لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل دوسری قسم ہے اور وہ’’ طبعی خواہشات‘‘ اور خواہش کے تقاضوں سے نفس کا صبر کرنا ہے اب اگر اس قسم میں پیٹ اور شرمگاہ کی خواہش سے صبر ہو تو اسے ’’عِفَّت‘‘ کہتے ہیں۔چونکہ وہ مکروہ اُمور جن پر صبر غالب آتا ہے لوگوں کے نزدیک مختلف ہیں اس لیے ان کے نام بھی مختلف ہیں اگر وہ مصیبت میں ہو تو اسے’’ صبر‘‘ ہی کہا جاتا ہے اور اس کے خلاف حالت کو’’جَزَع و فَزَع(رونا دھونا) ‘‘کہتے ہیں یعنی خواہش کے تقاضوں کو کھلی چھٹی دی جائے کہ وہ خوب آواز بلند کرے، رخسار پیٹے اور گریبان پھاڑے ، نیز اس قسم کی دوسری حرکات کرے اور اگر مالداری