Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
305 - 627
	نیز اس حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ ’’ہر شخص جب صبح کرتا ہے تو وہ اپنے آپ کو فروخت کردیتا ہے، پھر یا تواپنے جسم کو جہنم سے آزاد کرالیتا ہے یا اسے عذاب میں ڈال کر ہلاک کردیتا ہے۔‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان عمل کرتا ہے ، بعض انسان اللہعَزَّوَجَلَّ کے احکام مان کر اپنے نفس کواللہعَزَّوَجَلَّ کے حوالے کردیتے ہیں اور اپنے نفس کو جہنم سے آزاد کرالیتے ہیں اور بعض انسان شیطان اور خواہش کی اتباع کرتے ہیں اور اپنے نفس کو شیطان کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں اور شیطان انہیں جہنم میں ڈال کرہلاک کردیتا ہے۔
 (شرح مسلم للنووی، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوئ، ۲/۱۰۰، الجزء الثالث)
 قبر کا اُجالا
	عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مِرْقَاۃ شرح مِشکٰوۃمیں فرماتے ہیں :ایک قول کے مطابق نفس کواس کی خواہشوں سے روکنا، گِراں گزرنے والی عبادات کی طرف اسے مائل کرکے اس راہ میں آنے والی تکالیف کو برداشت کرنا صبر کہلاتا ہے۔ جب بندہ اپنے صبر کے عہد کو پورا کرے تو یہ اس کے لئے ضیائ( روشنی )ہے کیونکہ اگر صبر کو ترک کیا تو گناہوں کے اندھیرے میں جا گرے گا۔ ضیاء سے مراد قبر کا اُجالا ہے، کیونکہ جب مومن دنیا کی زندگی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت اور بلاؤں پراور گناہوں سے بچنے پر صبر کرتا ہے،تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی تنگ وتاریک قبر کو کشادہ ومنورفرما دیتا ہے ۔      (ملخصاً مرقاۃ المفاتیح،کتاب الطھارت، الفصل الاول، ۲/۸)
	صبر بہت ہی اچھا عمل ہے لیکن ہر صبر اچھاہو یہ ضروری نہیں۔کبھی کبھی صبر کرنا مکروہ وحرام ہوتا ہے اور کبھی فرض وواجب یانفل۔ چنانچہ،
حکم کے اعتبار سے صبر کی اقسام
	حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں :’’ حکم کے اعتبار سے صبر کی چار قسمیں ہیں (۱)فرض(۲) نفل(۳) مکروہ اور(۴) حرام۔