Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
304 - 627
ہے کہ اگر سُبْحَانَ اللہِ اوراَلْحَمْدُلِلّٰہِ کے ثواب کو مُجَسَّمْ کیا جائے تو ان کی جسامت آسمان اور زمین کو بھردے گی، اور انکے ثواب کے زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سُبْحَانَ اللہِ  کا کلمہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مُنَزَّہ  (پاک ہونے ) اور ہر نَقْص اور عیب سے بَری ہونے کے معنی پر مشتمل ہے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  کا کلمہاللہعَزَّوَجَل کی طرف مُفْتَقِرْ(محتاج) ہونے اس کی حمد و ثنا اور اس کا شکر بجالانے پر مشتمل ہے۔
	 ’’نماز نورہے ‘‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جس طرح نور اندھیروں کو دور کر کے روشنی پھیلا دیتا ہے اسی طرح نماز  گناہوں ، بے حیائی اور بُرے کاموں کو دور کر کے اعمال صالحہ کی ہدایت دیتی ہے ۔ دوسرا معنی یہ ہے بروزِ قیامت نمازی کا چہرہ نماز کی وجہ سے روشن و منور ہوگا اور دنیا میں بھی نمازی کا چہرہ تروتازہ رہتا ہے۔ 
	’’ صدقہ دلیل ہے ‘‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن جب انسان سے یہ سوال کیا جائے گا کہ مال کہاں خرچ کیا ؟ تو اس کے صَدَقات اس سوال کے جواب پر براہین (دلیل) بن جائیں گے ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ مال انسان کو طبعاً عزیز ہوتا ہے اور جب وہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صَدَقہ دیتا ہے تو یہ صدقہ کرنا اس کے دعویٰ ایمان کی صداقت پر دلیل بن جاتا ہے۔
	’’ صبر ضِیاء (روشنی)ہے‘ ‘  اس سے مراد یہ ہے کہ صبر ایک پسندیدہ عمل ہے اور صبر کرنے والا ہمیشہ ترو تازہ اور ہدایت پر مستقیم رہتا ہے، حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم خواص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَھَّاب نے فرمایا: کتاب اور سنت پر ثابت قدم رہنا صبر ہے، حضرتِ سَیِّدُنا اِبنِ عطاء رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: حوصلہ اور برداشت کے ساتھ مصائب کا سامنا کرنا صبر ہے، استاذ اَبُو عَلِی دَقَّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقنے فرمایا کہ صبر کی حقیقت یہ ہے کہ تقدیر پر اعتراض نہ کرے، البتہ مصائب کا اظہار کرنا صبر کے مُنافی نہیں ، بشرطیکہ یہ اظہار بطورِ شکایت نہ ہو۔
	’’قراٰن تمہار ے حق میں یا تمہارے خلاف دلیل ہے‘‘یعنی اگر تم قراٰن مجید کی تلاوت کرو گے اور اس کے احکامات پر عمل کرو گے تو یہ تمہارے حق میں دلیل ہوگا ورنہ یہ تمہارے خلاف دلیل ہوگا۔