علامہ مولانا مُحَمَّد اِسْمَاعِیْل بِنْ مُصْطَفٰی حَقِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی تفسیر’’روح البیان‘‘ میںاس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:بے شک !وہ لوگ جو ا ُمورِ دینیہ کی تکمیل اور ان کی حدود کی محافظت میں آنے والی ہر طرح کی تکالیف مثلاًاہل وعیال اوروطن سے دوری کی تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور کسی بھی صورت استقامت کا دامن نہیں چھوڑتے (توایسوں کو بے حساب بھرپور ثواب دیا جائے گا ) (روح البیان، پ۲۳، الزمر، تحت الایۃ:۱۰، ۸/۸۵)
صبر کرنا باہمت لوگوں کا کام ہے
پار ہ 25 سورہ ٔ شورٰی آیت 43 میں فرما ن باری تعالیٰ ہے:
وَلَمَنۡ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوۡرِ ﴿٪۴۳﴾ (پ۲۵، الشوری :۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اور بیشک جس نے صبر کیا اور بخش دیا تو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں۔
حضرت علامہ شَیْخ مُحَمَّد اِسْمَاعِیْل حَقِّی حَنَفِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنی مایہ ناز تفسیر ’’روح البیان‘‘ میںاس آیت کے تحت فرماتے ہیں:درحقیقت صبر جواں مَردوں کا کام ہے کہ وہ ہر وقت ظلم و جفا پر صبر کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ حضرتِ اَبُو سَعِیْدقَرَشِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی نے فرمایا : تکالیف و مصائب اور ناگوارا ُمور پر صبر کرنا اِنتباہ کی علامت ہے، یعنی جو ناگوار امر پر صبر کر تا ہے اور جَزَع و فَزَع (رونا پیٹنا) نہیں کرتا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی رضا عطا فرماتا ہے اور صوفیائے کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک رضائے الٰہی کا حصول بہت بڑے امور میں سے ہے اور جو شخص صبر نہیں کرتا بلکہ جزع و فزع کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے نفس کے سپر د کردیتا ہے پھر اسے شکوہ وشکایت سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔بعض مشائخِ کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامنے فرمایا کہ جو شخص تکالیف پر ایسا صبر کرے کہ کسی کے سامنے شکایت نہ کرے بلکہ اپنے مخالف کو معاف کردے اور اپنے نفس کے لئے اپنے مخالف پر دنیا و آخرت میں کوئی دعویٰ باقی نہ رکھے تو یہ ’’ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ‘‘ پر عمل کرنا ہے۔
(روح ا لبیان ،پ۲۵، الشوری،تحت الایۃ:۴۳،۸/ ۳۳۶۔ ۳۳۷)