اللہ عَزَّوَجَلَّ صبر کرنے والوں کے ساتھ
فرما ن باری تعالیٰ ہے:
اسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۵۳﴾ (پ ۲، البقرۃ: ۱۵۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہوبیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔
تفسیر ’’رُوحُ البیان‘‘ میں ہے کہ جب حضور سروَرِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کوئی غم لاحق ہوتا تو آپ نماز پڑھتے اور مذکورہ آیت مبارکہ تلاوت فرماتے ۔ (آیت طیبہ میں) صبر و نماز کی تخصیص اس لئے ہے کہ صبر باطنی عبادات میں بدن کے لیے بہت دشوار ہے جیسے ظاہری طور پر نماز بدن پر زیادہ سخت ہے کیونکہ نماز کئی قسم کی طاعات مثلاً ارکان وسنن و مستحبات اور خشوع و خضوع اور توجہ و سکون و دیگر جملہ اُن عبادات ِشاقّہ( سخت عبادات ) کا مجموعہ ہے کہ جن کی ادائیگی توفیق الٰہی کے بغیر ناممکن ہے۔ (روح ا لبیان،پ۲، البقرۃ، تحت الایۃ:۱۵۳، ۱/۲۵۷)
صابرین اور مجاہدین کا امتحان
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیۡنَ مِنۡکُمْ وَ الصّٰبِرِیۡنَ ۙ (پ ۲۶ ، محمد : ۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان:اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے یہاں تک کہ دیکھ لیںتمہارے جہاد کرنے والوں اور صابروں کو۔
حضرت سَیِّدُنا امام ابو جعفر محمد بن جَرِیرطَبَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ’’ تفسیرطَبَری‘‘ میں فرماتے ہیں:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اہلِ ایمان سے فرمایا: اے مومنوں ہم تمہیں قتل اور اپنے دشمنوں سے جہاد کے ذریعے آزمائینگے تاکہ مجاہدین میں سے ہمار ا لشکر اور ہمارے اولیا پہچانے جائیںاور ہمارے دشمنوں سے جہاد پر صبر کرنے والے پہچانے جائیں دین میں بصیرت رکھنے والے اور شک کرنے والے ، اسی طرح مومنین و منافقین پہچانے جائیںاور ہم تم میں سے سچے اور جھوٹوں کو جانچ لیں ۔ (تفسیر طبری، پ۲۶، محمد،تحت الایۃ:۳۱، ۱۱/۳۲۵)