العرفانمیں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:’’آزمائش سے فرمانبردار و نافرمان کے حال کا ظاہر کرنا مراد ہے۔امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایاکہ خوف سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ،جانوں کی کمی سے امراض کے ذریعہ موتیں ہونا اور پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے اس لئے کہ اولاد دِل کا پھل ہوتی ہے۔ فرمانِ مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے کہ ’’جب کسی کا بچہ مرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ملائکہ (فرشتوں) سے فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کرلی ؟وہ عرض کرتے ہیں:ہاں! یا ربّ (عَزَّوَجَلَّ)! پھر فرماتاہے: تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا؟ عرض کرتے ہیں: ہاں! پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ عرض کرتے ہیں: اس نے تیری حمد کی اور’’اِنَّا ِﷲِ وَاِناَّ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن‘‘ پڑھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: اس کے لئے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام’’بیتُ الْحَمْد‘‘ رکھو۔ مصیبت کے پیش آنے سے قبل خبر دینے میں کئی حکمتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس سے آدمی کو مصیبت کے وقت صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے، ایک یہ کہ جب کافر دیکھیں کہ مسلمان بَلاو مصیبت کے وقت صابر و شاکر اور اِسْتِقْلال کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہتا ہے تو انہیں دین کی خوبی معلوم ہو اور اس کی طرف رغبت ہو، ایک یہ کہ آنے والی مصیبت سے قبل اطلاع دے دیناغیبی خبر اور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا معجزہ ہے ایک حکمت یہ کہ منافقین کے قدم ابتلا کی خبر سے اُکھڑ جائیں اور مومن و منافق میں امتیاز ہوجائے۔
(خزائن العرفان پ۲، البقرہ :۱۵۵)
صابرین کے لئے بے حساب اجر وثواب
پار ہ23 سورہ ٔزُمر آیت 10 میں فرما ن باری تعالیٰ ہے:
اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾ (پ ۲۳، الزمر:۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان:صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی ۔