یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوۡا۔(پ۴، الِ عمران:۲۰۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو صبر کرواور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو۔
حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو جعفر محمد بن جریرطَبَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ’’ تفسیرطَبَری‘‘ میں اس ا ٓیتِ مقدسہ کے تحت فرماتے ہیں:’’ یعنی اے ایمان والو!اپنے دین اور اس وعدے پر صبر کرو جو میں نے تم سے کیا ہے اور دشمن کے مقابلے میں صبر کرنے میں ان سے بڑھ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنے باطل دین کوچھوڑ کر دامنِ ا سلام سے وابستہ ہوجائیں۔‘‘ (تفسیر طبری، پ۴، الِ عمران،تحت الایۃ:۲۰۰، ۳/۵۶۲)
مومنوں کی آزمائش
پار ہ2 سورہ ٔ بقرہ آیت 155 میں جان و ما ل کی کمی اور بھوک و خوف پر صبر کرنے والوں کو یوں خوشخبری سنائی جارہی ہے:
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیۡءٍ مِّنَ الْخَوۡفِ وَالْجُوۡعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الۡاَمۡوٰلِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۵۵﴾۔(پ ۲، البقرہ :۱۵۵)
ترجمۂ کنزالایمان: او ر ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔
حضرت سَیِّدُنا امام ابو جعفر محمد بن جَرِیرطَبَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ’’ تفسیرطَبَری‘‘ میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:’’ یعنی ہم تمہیں دشمن کے خوف ، قحط سالی، شدید بھوک وفقر وفاقہ، فصلوں کی کمی، مقاصد کے حصول میں مشکلات، کفار سے جنگ کے دوران اَفرادی قوت میں کمی اور اہل وعیال کی موت وغیرہ کے ذریعے آزمائیں گے اور یہ سب چیزیں ہماری جانب سے بطور امتحان ہو نگیںتاکہ تمہارے سچے جھوٹوں سے اور اہل بصیرت منافقوں سے جدا ہوجائیں ۔‘‘ (تفسیر طبری، پ۲، البقرہ، تحت الایۃ:۱۵۵، ۲/۴۴)
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی خَزائنُ العرفانمیں