باب نمبر:3 صبرکا بیان
خدائے بُزُرْگ وبَرْتَر جس طرح اپنے بندوں پر بے شمار نعمتیں نچھاور فرما کر احسانِ عظیم فرماتا ہے اسی طرح کبھی انہیں مصائب وآلام کے امتحان میں ڈال کر کامیابی کی صورت میں بلندیٔ درجات کے علاوہ بے شمار دنیوی واُخروی انعا مات بھی عطا فرماتا ہے اور ایسے خوش نصیبوں کو جوسب سے بڑا انعام ملتاہے اس کے بارے میں قراٰن کریم اس طرح مژدہ ٔ جاں فزا سنا رہا ہے :
اِن اللہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ (پ۲،البقرہ :۱۵۳)
ترجمۂ کنزالایمان:بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے
ذاتِ باری تعالی کاقُرب وہ عظیم نعمت ہے کہ جس کے حصول کے لئے انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام و اولیائے عظام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام نے ایسی ایسی تکالیف پر صبر کیا کہ جن کے تصور ہی سے لرزہ طاری ہوجاتا ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان بزرگ ہستیوں کے صدقے ہمیں دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے اور جو مصائب ہمارے مقدر میں ہیں ان پر صبر کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔اٰمین۔ رِیَاضُ الصَّالِحِیْن کا یہ باب’’ صَبْر‘‘ کے بارے میں ہے۔حضرتِ سَیِّدُنااِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی دِمَشْقِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس باب میں 6آیات مقدسہ اور 29احادیث مبارکہ بیان فرمائیں ہیں۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم اس باب میں صبر کی تعریف ،اسکی فضیلت واہمیت ، حصولِ صبراور اس پر اِسْتِقَامَت کے ذرائع، بے صبری کے نقصانات اور اس کے علاوہ صابرین کے ایمان افروز حالات وواقعات بیان کرینگے۔ سب سے پہلے قراٰن مجید فرقانِ حمید کی آیات مبارَکہ ملاحظہ فرمائیے اور دیکھئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ صبر اور صابرین کے متعلق کیا ارشاد فرما رہا ہے۔
اے ایمان والوں !صبر کرو!
پارہ 4 سورۂ اٰل عمران آیت 200فرمانِ خداوندی ہے: