Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
296 - 627
 نیکیاں فوراً نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں 
	سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : دائیں کندھے والا فرشتہ بائیں کندھے والے فرشتے پر نگران ہے، جب بندہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو وہ فوراً 10نیکیاں لکھ دیتا ہے، لیکن جب بندہ برائی کرتا ہے اور بائیں کندھے والا گناہ لکھنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے: ابھی نہ لکھو! ٹھہر جاؤ! اس طرح اسے 6، 7گھڑیاں روکے رکھتا ہے اگربندہ توبہ کر لے تو کچھ نہیں لکھا جاتا ورنہ ایک گناہ لکھا جاتا ۔
(شعب الإیمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، ۵/۳۹۰، حدیث: ۷۰۴۹)
	 ایک روایت میں یوں ہے کہ بندے کا گناہ اس وقت تک نہیں لکھا جاتا جب تک دوسرا گناہ نہ کرلے، اسی طرح اگلا گناہ اس سے اگلے گناہ تک نہیں لکھا جاتا، پھرجب پانچ گناہ ہوجائیں اور وہ کوئی نیکی کرلے تو 5 نیکیاں لکھی جاتی ہیں ،اور ان 5  نیکیوں کے عوض پہلے 5 گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں ، اس وقت شیطان چیختا چلاتا ہے کہ اے انسان! میں تجھ پر کیسے غلبہ پاؤں ، میری ساری کوشش تیری ایک نیکی سے رائیگاں چلی گئی۔     (تنبیہ الغافلین ، باب التوبۃ، ص۵۴)
مدنی گلدستہ 
’’توبہ‘‘کے4 حروف کی نسبت سے حد یث مذکور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے4 مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے ۔
(2)جو کوئی گناہ سے توبہ کرلے تو اسے اسی گناہ پر شرمندہ اور زَجْرو تَوْبِیْخ (ڈانٹ ڈپٹ)کرنا دُرُست نہیں کیونکہ توبہ سے پچھلے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ 
 (3) اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے ہر گز ہر گز مایوس نہیں ہونا چاہیے بندہ جس وقت بھی اس سے توبہ کرے اور معافی مانگے وہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔