Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
295 - 627
 کرکے دو رکعت نماز پڑھے پھر اِستِغْفَار کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ  اسے ضرور بخش دے گا۔ پھر یہ آیتِ مقدسہ تلاوت کی:
وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡا فٰحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوۡۤا اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوۡا لِذُنُوۡبِہِمْ۟ وَمَنۡ یَّغْفِرُ الذُّنُوۡبَ اِلَّا اللہُ ۪۟ وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا وَہُمْ یَعْلَمُوۡنَ﴿۱۳۵﴾ اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَجَنّٰتٌ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاؕ وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیۡنَ﴿۱۳۶﴾ؕ
  (پ ۴ ،اٰل عمران، ۱۳۵،۱۳۶)
  ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ کہ جب کوئی بے حیائی یا اپنی جانوں پر ظلم کریں، اللہ کو یاد کر کے اپنی گناہوں کی معافی چاہیں اور گناہ کون بخشے سوا اللہ کے،اور اپنے کئے پر جان بوجھ کر اَڑ نہ جائیں ،ایسوں کو بدلہ ان کے رب کی بخشش اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں رواںہمیشہ ان میں رہیں اور کامیوں کا اچھا نیگ ہے ۔
(ترمذی، کتاب الصلوۃ، باب ماجاء فی الصلٰوۃ عند التوبۃ، ۱/۴۱۴، حدیث: ۴۰۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	 شیطان جو انسان کا کھلا دشمن ہے وہ کبھی نہیں چاہتا کہ مسلمانوں کی مغفرت ہو بلکہ وہ تو انہیں جہنم کا حقدار بنانا چاہتا ہے لیکن جو بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگتا رہتا ہے وہ فضلِ الٰہی سے   ضرور شیطان کے شر سے بچ جاتا ہے۔چنانچہ،  
شیطان مرتے دم تک پیچھا نہیں چھوڑتا
	حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیںکہ میں نیحُضور پُرنور ،شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اِبلیس نے اللہ عَزَّوَجَلَّسے کہا کہ ،مجھے تیری عزت و عظمت کی قسم! میں اولادِ آدم کے ساتھ مرتے دم تک چِمٹا رہوں گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا : مجھے اپنی عزت و عظمت کی قسم !میں اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے۔ 
(مسند امام احمد، مسند ابی سعید خدری، ۴/۵۹، حدیث:۱۱۲۴۴)