Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
294 - 627
اِنَّہٗ لَا یَایْئَسُ مَنْ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ (پ۱۳یوسف:۸۷)
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔
	
 اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے: 
وَھُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنo(پ۲۵، الشوری: ۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
	
 عقل مند کو چاہیے کہ ہر وقت توبہ کرتا رہے، گناہوں پر اصرار نہ کرے۔ گناہ گار خواہ ستر70 مرتبہ گناہ کرے اور ہر مرتبہ گناہ کے بعد توبہ کر لے تو اسے گناہ پر اصرار کرنے والا نہیں کہیں گے جیسا کہ امیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُناصِدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے  مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   محبوب ،دانائے غُیُوب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو گناہوں کی معافی مانگتا رہے وہ مُصِر(بار بار گناہ کرنے والا )نہیں ، خواہ ایک دن میں 70 مرتبہ ہی معافی کیوں نہ مانگے۔		 (ترمذی، کتاب احادیث شتی، باب من ابواب الدعوات، ۵/۳۲۷، حدیث:۳۵۷۰)
دو رَکعت نماز ،سارے گناہ معاف
	اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن مولائے کائنات ، علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ جب میں سرکارِ دوعالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کوئی بات سنتا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی مَشِیَّت (حِکمت)کے مطابق مجھے اس سے نفع عطا فرماتا اور اگر کوئی اور شخص مجھے حدیث بیان کرتا تو میں اُس سے حَلَف (قسم) لیتا۔ جب وہ حَلَف اٹھالیتا تو میں اُس کی تَصْدِیْق کرتا۔ مجھے یارِغار و مزار اَمِیْرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناصِدِّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیان کیا اور انہوں نے سچ فرمایا ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : جب کسی آدمی سے گناہ سرزَد ہوجائے تو وہ اچھی طرح وضو