Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
293 - 627
کیا کرتا تھا، ایک دن کہیں جارہا تھا کہ گزشتہ زندگی پر نگاہ دوڑائی تو شرمند گی سے سر جھک گیا تڑپ کر بارگاہ الٰہی میں تین مرتبہ یوں عرض کی: ’’اللھُمَّ غُفْرَانَکَ‘‘( یا الٰہی میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں )۔پھر فوراََ اسے موت آگئی، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے بخش دیا۔ 						(تنبیہ الغافلین ، باب التوبۃ ،ص۵۳)
	 اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں سے بہت مَحَبَّت فرماتا ہے وہ ستر 70ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندوں پر مہربان و رحیم ہے ۔ اگر اس کے مقبول بندے کسی گناہ گار کے لئے بددعا کرتے ہیں تو بسااوقات انہیں بددُعا سے منع کر دیا جاتا ہے ۔ چنانچہ،
 (4)گناہ گاروں کی تین حالتیں 
	حضرتِ سَیِّدُنا مَکْحُوْل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے منقول ہے کہ جب حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ       وَالسَّلَامکو آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو انہوں نے دنیا میں ایک شخص کو بدکاری میں مُلَوِّثْ دیکھ کراس کے لئے بد دعا کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے ہلاک کردیا۔ پھر ایک آدمی کو چوری کرتے دیکھا تواس کے لئے بھی بددعا کی، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے بھی ہلاک کر دیا ۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : اے میرے خلیل ! میرے بندوں کو رہنے دو، میرے بندوں کی تین حالتیں ہوں گی: (۱)یہ توبہ کریں گے تومیں انہیں بخش دوں گا (۲)یا ان کی اولاد نیک ہوگی جو میری عبادت کرے گی (جس سے انکے والدین کی مغفرت ہوجائے گی) (۳)یا پھر بدبختی ان پر غالب آجائے گی تو یہ جہنم کے مستحق ٹھہریں گے۔ 							(تنبیہ الغافلین ، باب التوبۃ ،ص۵۳)
	حضرتِ سَیِّدُنا فَقِیْہ اَبُو اللَّیْث سَمَرْقَنْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الولیفرماتے ہیں کہ بندہ جب بھی توبہ کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس لیے انسان کو رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا فرمان ہے :