( 2)آخری دم تک توبہ قبول ہے
حضرتِ سَیِّدُنا عبد الرحمن بن بَیلَمَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک صحابی َرضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : میں نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا :جس نے مرنے سے ایک سال پہلے توبہ کرلی، اللہ عَزَّوَجَلَّ اسکی توبہ قبول فرمائے گا ۔ یہ سن کر ایک اور صحابی نے کہا: تم نے یہ بات حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنی ہے؟ اس نے کہا :ہاں۔ اس پر دوسرے صحابی نے کہا : میں نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا کہ جس نے مرنے سے ایک ماہ پہلے توبہ کر لی اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قُبول فرمائے گا۔ ایک اورصحابی نے کہا :کیا تم نے یہ بات سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے؟ کہا: ہاں ! تو اس نے کہا : میں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا کہ جو مرنے سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلے اللہعَزَّوَجَلَّ اُس کی توبہ قُبول فرمائے گا۔پھرایک اور صحابی نے کہا: کیا تم نے یہ بات حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے؟ کہا:ہاں !تو اس نے کہا: میں نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا کہ جو مرنے سے ایک گھڑی پہلے توبہ کر لے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ ایک اور صحابی نے کہا: کیا تم نے یہ بات حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے؟ کہا:ہاں۔تو انہوں نے کہا: میں نے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہجو شخص موت کے غَرغَرَہ (یعنی آخری ہچکی)سے پہلے بھی توبہ کرلے، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی توبہ بھی قُبول فرمالے گا۔(مستدرک حاکم، کتاب التوبۃ والانابہ، باب من تاب الی اللہ قبل الغرغرۃ،۵/۳۶۶، حدیث: ۷۷۳۷)
اللہ عَزَّوَجَلکی رحمت سے ہرگز ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے اس کی رحمت بہت بڑی ہے ،وہ تو بہانہ تلاش کرتی ہے کہ بندہ مغفرت طلب کرے اور اُسے بخش دیا جائے۔ چنانچہ ،
(3)صرف تین کلمات کی وجہ سے مغفرت ہوگئی
حضرتِ سَیِّدُنامُعَتِّب بن سُمَی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے منقول ہے کہ پہلے زمانہ میں ایک شخص بہت گناہ کیا