Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
291 - 627
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵۳﴾ (پ۲۴، الزمر: ۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔
	اس آیتِ مبارکہ میں چونکہ کسی شرط کا ذکر نہیں لہٰذا اِسے پڑھتے ہی وہ مَدِینَۂ مُنَوََّرَہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَتَعْظِیْمًاکی جانب روانہ ہوئے اور بارگاہِ رِسالت میں حاضر ہوئے اور دامنِ اسلام سے وابستہ ہو کر صَحَابِیَّتکے مرتبے پر فائز ہوگئے ۔ 				 (روح البیان، پ۲۴، النسائ، تحت الایۃ:۵۳، ۲/۲۱۹)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
	 اللہ عَزَّوَجَلَّ  اپنے بندوں کو توبہ کے لئے بڑی مہلت دیتا ہے۔وہ کریم پروردگارعَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں کی توبہ پر خوش ہوتا ہے ،بندہ جتنی بار بھی توبہ کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اُس پررَحمت نازل ہوتی ہے اور توبہ کرنے والا بالآخر کامیاب ہوجاتا ہے ۔
چنانچہ اس ضمن میں ’’توبہ‘‘ کے چار حروف کی نسبت سے’’ 4‘‘روایات ملاحظہ ہوں
(1) تائبین کے لئے خوشخبری  
	مُحَمَّد بِن مُطَرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے کہ اللہ عَزَّوَجَل ارشادفرماتا ہے: اولادِ آدم کا یہ عمل حیران کُن ہے کہ وہ گناہ کرتے ہیں پھر مجھ سے مغفرت مانگتے ہیں، میں بخش دیتا ہوں، وہ پھرگناہ کرکے مغفرت مانگتے ہیں تو میں پھر بخش دیتا ہوں ،کمال ہے نہ وہ گناہ چھوڑتے ہیں اور نہ ہی میری رحمت سے مایوس ہوتے ہے، اس لئے اے میرے فرشتو! گواہ رہنا میں نے انہیں بخش دیا ۔	(تنبیہ الغافلین ، باب التوبۃ ،ص۵۳)
گناہگارو!نہ گھبرائو نہ گھبرائو نہ گھبراؤ
نظر رحمت پہ رکھو جنتُ ا لفِردوس میں جاؤ