Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
290 - 627
وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوۡنَ النَّفْسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوۡنَۚ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾ (پ۱۹، الفرقان: ۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے ،اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ،ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے، اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا ۔
	اس آیت میں جن تین گناہوں کا ذکر ہوا میں ان تینوں کا مرتَکِب ہو چکا ہوں کیا میری توبہ بھی قبول ہوسکتی ہے، اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی :
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ وَ لَا یُظْلَمُوۡنَ شَیْـًٔا ﴿ۙ۶۰﴾ (پ۱۶، مریم:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان: مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا۔
	 وحشی کو یہ آیتِ مبارکہ لکھ کر بھیجی گئی تو انہوں نے جواباََ لکھ کر بھیجا کہ اس آیت میں عملِ صالح کی شرط ہے ،کیا خبر میں عملِ صالح کر بھی سکوں گا یا نہیں۔ اس پر یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی :
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَمَنۡ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَقَدِ افْتَـرٰۤی اِثْمًا عَظِیۡمًا ﴿۴۸﴾ (پ۵ ،النساء: ۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ،اور جس نے خدا کا شریک ٹھرایا اُس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔ 
 	یہ آیت مبارکہ سن کر وہ بولے کہ اس میں مشیتِ الٰہی کی شرط ہے، پتا نہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ میری مغفرت چاہے گا بھی یا نہیں؟ اس پر یہ آیتِ مبارَکہ نازل ہوئی: