Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
289 - 627
 ہر انسان کے ساتھ ایک محافظ ہوتا ہے 
	 مروی ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَامنے بارگاہ ِ خداوندی میں عرض کی: اے میرے پروردگارعَزَّوَجَلَّ! تو نے مجھ پر ابلیس کو مُسلَّط کردیا، میں تیری مدد کے بغیر اس پر قابو نہیں پاسکتا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا :میں تیری اولاد کے ہر ہر فرد کے ساتھ ایک محافظ پیدا کروں گا جو اسے شیطان اور دیگر برے ساتھیوں سے بچائے گا۔ عرض کی: الٰہی عَزَّوَجَلَّ !کچھ مزید عطا فرما! ارشادفرمایا: ایک نیکی کا اجْر دس گنا ہوگا اور نیکی میں اضافہ کروں گا اور برائی کا گناہ برائی جتنا ہی ہوگا اور برائی کو مٹاؤں گا۔ عرض کی: الٰہی عَزَّوَجَلَّ ! مزید عطا فرما!ارشاد فرمایا: جب تک روح کا جسم کے ساتھ رشتہ برقرار رہے گا میں انسان کی توبہ قبول کرتا رہوں گا۔ عرض کی: اے میرے پرورد گار عَزَّوَجَلَّ اور عطا فرما!ارشاد فرمایا: میرے جو بندے گناہوں کے سبب اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں ان سے کہہ دو کہ وہ میری رحمت سے مایوس نہ ہوں ، بے شک میں تمام گناہ بخش دوں گا، بے شک میں بہت مغفرت فرمانے والا ہوں (روح البیان، پ۱۱، ہود، تحت الایۃ:۳، ۴/۹۳)
	 اللہ عَزَّوَجَلّ اپنے بندوں کو کبھی بھی اپنی رحمت سے مایوس نہیں کرتا ۔حضرتِ سَیِّدُنا وَحْشِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایمان لانے کا واقعہ بھی نہایت ایمان افروز ہے اس واقعے سے اللہ عَزَّوَجَلَّکی اپنے بندوں پررحمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔چنانچہ  ،
حضرتِ سَیِّدُنا وَحْشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا قبولِ اسلام
 	منقول ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم کے چچا  حضرتِ سَیِّدُنا امیر حمزہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قاتل وحشی  نے مَکَّۂ مُکَرَّمَہسے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ  وَسَلَّمکی بارگاہ میں خط بھیجا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں لیکن اس آیت کی وجہ سے نہیں ہو پاتا: