ہوگا، اور اجنبی مسلمان دوسرے مسلمان کو عذاب میں دیکھ کر مَلُوْل (غمگین) ہوگا، اس کی سفارش و شفاعت کرکے اسے بخشوائے گا، یونہی وہ دو مسلمان جو دنیوی معاملات میں ایک دوسرے کے دشمن تھے وہاں دوست ہوجائیں گے۔ ربّ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے :
وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنْ غِلٍّ اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۱۴، الحجر :۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لئے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے۔
اور فرماتا ہے:
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾ (پ۲۵، الزخرف:۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان: گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیز گار۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۵/۴۲۳)
حضرتِ سَیِّدُنااِبنِ سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ابنِ قَوقَل (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)میرے ہاتھوں قتل ہوا۔ جبکہ میں کافر تھا ۔میرے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے اس کو شہادت کا مرتبہ عطا کیا اگر وہ اس وقت مجھے قتل کر دیتا تو میں (مَعَاذَ اللہ )کفر کی حالت میں مرتا اور اس کے ہاتھوں سے ذلیل و رُسوا ہوتا، میری عاقبت تباہ ہوجاتی اور میں ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہتا۔(تفہیم البخاری، ۴/۳۹۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق عطا فرما کر اُس کی بخشش فرما دیتا ہے ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ بہت غفور رحیم ہے اس کے عَفْوو کرم کی اِنتہا نہیں ، یہ اُس کا کَرَم ہی تو ہے کہ ہر مسلمان کے ساتھ ایک مُحافِظ (فرشتہ ) ہے جو شیطان اور اُس کے چَیلوں سے انسان کی حفاظت کرتا ہے۔ چنانچہ،