’’ضِحْکٌ‘‘ کا لفظ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے بطور اِسْتِعارَہ استعمال ہوا ہے ، کیونکہ ذاتِ باری تعالیٰ کے لئے ایسے الفاظ کا اطلاق ناجائز ہے، کیونکہ ایسے الفاظ کا اطلاق اَجسا م پر ہوتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَل َّ جسم سے پاک ہے ۔چنانچہ ،یہاں ’’ضِحْکٌ‘‘ سے مراد ان دونوں سے راضی ہونا ،اجرو ثواب دینا اور ان کی تعریف کرنا ہے۔ کیو نکہ ہم اسی وقت ہنستے ہیں جب کوئی کام ہماری مرضی کے مطابق ہو ا ہویا کسی سے ملاقات کے وقت خوشی اور بھلائی پہنچی ہو ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں ہنسنے سے مراد ان ملائکہ کا ہنسنا ہے جو ان کی روح قبض کرتے ہیں اورانہیں جنت میں لے کر جاتے ہیں۔
(شرح مسلم للنووی،کتاب الامارۃ، باب بیان الرجلین یقتل احدھما الاخر… الخ، ۷/۳۶، الجزء الثالث عشر)
عَلَّامَہاِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارشرحِ بخاری میں فرماتے ہیں : اور یہاں ’’ضِحْکٌ‘‘سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی رضا مندی اور رحمت کے ساتھ ان سے ملاقات فرمائے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ توبہ، قتل اور اس کے علاوہ پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے ۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الجہاد، باب الکافر یقتل المسلم ثم یسلم فیسدد او یقتل، ۵/۳۸)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’ ’ضِحْکْ ‘‘کے معنی ہیں ’’ہنسنا‘‘ ربّ تعالیٰ عَزَّوَجَلَّ کے لئے یہ ناممکن ہے۔ اس لئے بعض شارِحین نے اس کے معنی کئے ہیں ،خوش ہونا، راضی ہونا، پسند فرمانا، صاحبِ اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات نے فرمایا کہ ’’ضِحْکْ‘‘ کا معنی ہے ،پانی بہانا، لہٰذا اس کے معنٰے ہوئے ،رحمتیں بہانا ، یہ معنٰی نہایت لذ یذ و نَفِیْس ہیں۔ مزید فرماتے ہیں قاتل و مقتول دونوں ایک ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جنت میں جائیں گے کہ پہلا بھی شہید و سعیدفوت ہوا اور دوسرا بھی شہید و سعید ، دیکھو حضرتِ سَیِّدُناامیر حَمْزَہ کو جناب وَحْشِی نے شہید کیا اور پھر بعد میں خود بھی سعیدو مومن ہو کر فوت ہوئے، رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما۔ خیال رہے کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کی ذاتی عَداوتیں آخرت میں ختم ہوجائیں گی، یوں ہی دنیا کی جسمانی محبتیں بھی وہاں فنا ہوجائیں گی، ایمانی عداوت و رحمت باقی رہے گی، مسلمان باپ کافر بیٹے کو عذاب میں دیکھ کر خوش