Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
286 - 627
حدیث نمبر:24 	        قاتل کو توبہ کی توفیق ملی اور جنت میں داخل ہو گیا 
	   عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ! یَضْحَکُ اللہُ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی إِلٰی رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ أَحَدُہُمَا الْاٰخَرَ یَدْخُلاَ نِ الْجَنَّۃَ ، یُقَاتِلُ ہَذَا فِی سَبِیْلِ اللہِ فَیُقْتَلُ، ثُمَّ یَتُوْبُ اللہُ عَلَی الْقَاتِلِ فَیُسْلِمُ فَیُسْتَشْہَدُ(مُتَّفَقٌ عَلَیْہ)
(بخاری، کتاب الجھادوالسیر، باب الکافر یقتل المسلم… الخ ، ۲/۲۶۲، حدیث: ۲۸۲۶)
	ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے دو آدمیوں کو دیکھ کر ضِحْک فرمائے گا جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو گا(پھر بھی) وہ  دونوں جنت میں داخل ہونگے ۔ اُن میں سے ایک تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں لڑکر شہید ہو ا تھا پھر اللہ عَزَّوَجَلَّنے اس کے قاتل کو توبہ کی توفیق بخشی اور وہ مسلمان ہوگیا اور جہاد کرتا ہوا شہید ہو گیا۔ 
 شہید جنتی ہے 
	علامہ بَدْرُ الدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عُمدۃُ القَارِیْ شرحِ بخاری میں فرماتے ہیں : اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جو بھی راہِ خدا میں شہید کیا جائے وہ جنتی ہے۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام ا س حدیث کا ایک معنی یہ بیان فرماتے ہیں کہ پہلے وہ قاتل کافر تھا پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے توبہ کی توفیق عطا فرمائی تو وہ مسلمان ہوااور پھر شہید ہوگیا ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی مسلمان کسی مسلمان کوجان بوجھ کر قتل کردے پھر توبہ کرے اورراہِ خدامیں شہیدکردیاجائے ۔ (عمدۃ القاری، کتاب الجہاد، باب الکافر یقتل المسلم ثم یسلم فیسدد او یقتل، ۱۰/۱۳۹، تحت الحدیث:۲۸۲۶)
ضِحْکٌ سے کیا مراد ہے؟
	  اِمام یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرحِ مسلم میں فرماتے ہیں : حدیثِ مذکورمیں