Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
284 - 627
ہمارا ربّ عَزَّوَجَلَّ بہت کریم ہے وہ اپنے بندوں کے گناہ معاف فرمانے والاہے۔ اس کی بارگاہ ِعالی میں جو بھی سچے دل سے توبہ کرتا ہے اس کی توبہ ضرور قُبول کی جاتی ہے۔ اگر سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد شیطان ونفس کے بہکاوے میں آکر دوبارہ گناہ ہوجائے تو یہ سوچ کر ہرگز ہرگز توبہ سے دور نہیں رہنا چاہیے کہ نہ جانے توبہ قُبول ہوگی یا نہیں۔ یاد رکھئے ! چاہے کتنی ہی مرتبہ توبہ کرنی پڑے فوراً توبہ کرلینی چاہیے۔ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ توبہ کرنے والوں سے ناراض نہیں ہوتا بلکہ خوش ہو کر ان کی توبہ قُبول فرماتا ہے ۔   
	فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَإِنَّہُ کَانَ لِلأَوَّابِینَ غَفُوْرًا (پ ۱۵بنی اسرائیل :۲۵) ترجمۂ کنز الایمان:توبے شک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
	 حضرتِ سَیِّدُنا سَعِید بِن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’یہ فرمان اُس شخص کے بارے میں ہے جس سے گناہ سرزد ہوتا ہے پھر توبہ کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم، ۴ /۱۸)
عَارِف بِا للّٰہ کی پہچان
	کسی دانا کا قول ہے کہ عَارِف بِاللہ  کی چھ حالتیں ہوتی ہیں : (1)جب اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر ہو تو مچل جائے (2)جب اس کا اپنا ذکر ہو تو خود کو حقیر سمجھے(3)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیات سے عبرت حاصل کرے (4)گناہ یا شَہْوَت کا کام کرنے لگے تو ڈر جائے(5) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شانِ غفّاری کا تذکرہ ہو تو خوش ہوجائے (6)جب اپنے گناہ یاد آئیں تو توبہ واِستِغفَار کرے۔					(تنبیہ ا لغافلین، ص۵۵)
	 اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت بہت بڑی ہے وہ اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے کبھی مایوس نہیں کرتا، بڑے سے بڑا گناہ بھی اس کی رحمت کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتا ۔جب اس کی رحمت جوش میں آتی ہے تو وہ بڑے بڑے مجرموں کو بھی توبہ کی توفیق عطا فرما کر ان پرنظرِ کرم فرماتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں سچی توبہ اور اُس پر اِسْتِقَامَت کی توفیق