(4) دنیا سے بے رغبتی کا صِلہ
حضرتِ سَیِّدُنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک روز رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کاشانۂ نَبوَّت سے باہر تشریف لائے اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ارشادفرمایا :کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّاسے بغیر کسی کے سکھائے علم اور بغیر کسی رَہبر کے ہدایت عطا فرمائے ، کیا تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کا اندھا پن دور فرماکراُسے بینا کردے ؟ جان لوکہ جوکوئی دنیاسے بے رغبتی اختیارکرے اور لمبی امیدیں نہ باندھے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بغیر سیکھے علم عطا فرمائے گا ۔
(شعب الایمان، باب فی الزھد وقصر الامل، ۷/۳۶۰، حدیث:۱۰۵۸۲)
(5)مال کی زیادتی دشمنی کا باعث ہے
رسول ِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے ایک موقعہ پر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! مجھے تمہارے مُفلِس ہوجانے کا ڈر نہیں ، مجھے تو ڈر اس بات کا ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہوجائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر ہوئی تھی پھر تم اِس میں رغبت کرنے لگو جیسے اگلے لوگ کرنے لگے تھے اوریہ تمہیں ہلاک کردے جیسے انہیں ہلاک کیا ۔(بخاری، کتاب الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ مع اہل الحرب،۲/۳۶۳، حدیث:۳۱۵۸)
مذکورہ روایات سے معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے، آقا مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان دنیا سے کس قدر بیزار تھے۔ انہوں نے اِس دنیائے فانی کو اچھا نہیں سمجھا وہ اس کی حقیقت کو جانتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اِن کی پاکیزہ تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس بے وفا دنیا کی مَحَبَّت سے اپنے دلوں کو خالی کر کے اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکی یاد سے معمور رکھیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا کی مَحَبَّت سے بچا کر اپنی اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم کی مَحَبَّت عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم