عرض کی:اے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے خلیفہ! آپ کو کس چیز نے رُلایا؟ فرمایا: ایک دن میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّماپنے دَسْتِ مبارَک سے کسی چیز کو ہٹا رہے ہیں لیکن مجھے کوئی چیز نظرنہیں آرہی تھی‘ میں نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم ! آپ کس چیز کو ہٹار ہے ہیں ؟ مجھے تو کوئی چیز نظر نہیں آرہی ۔ فرمایا: یہ دنیا ہے جو میرے پاس آنا چاہتی ہے میں نے اس سے کہا: مجھ سے دور ہو جا، تو اُس نے مجھ سے کہا: اگر آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے مجھ کو چھوڑ دیا ہے تو کیا ہوا، آپ کے بعد ایسے لوگ آئیں گے کہ وہ مجھ کو نہیں چھوڑیں گے۔ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوبکر صِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرمانے لگے: مجھے خوف ہے کہ کہیں میں اس کے ہاتھ نہ پڑجاؤں۔
(شعب الإیمان، باب فی ا لزھد وقصر الامل فصل فیما بلغنا عن الصحابۃ، ۷ /۳۶۵، حدیث: ۱۰۵۹۶)
(3)دنیا کی حقیقت
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوہُرَیرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک روز حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں دنیا اور جو اُس میں ہے اسکی حقیقت نہ بتاؤں ؟ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کوڑا کَرکَٹ ڈالنے کی جگہ لے گئے، وہاں لوگوں کے سر، غَلاظَت، پھٹے پرانے کپڑے اور بہت سی ہڈیاں پڑی تھیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اے ابوہریرہ !یہ سر جو تم دیکھ رہے ہو یہ بھی تم لوگوں کی طرح حرص کرتے اور لمبی لمبی امیدیں باندھتے تھے لیکن آج ان کی صرف ہڈیاں باقی ہیں اور یہ ہڈیاں بھی عنقریب گل کر مٹی ہوجائیں گی اور یہ غَلاظت وہ رَنگ برنگ کے کھانے ہیں جو بڑی تگ و دو سے حاصل کئے گئے تھے لیکن اب لوگ ان سے کراہت کرتے ہیں۔ اوریہ پھٹے پرانے کپڑے لوگوں کے شاندار لباس تھے لیکن اب انہیں ہوائیں ادھر ادھر پھینک رہی ہیں اور یہ ہڈیاں ان جانوروں کی ہیں جن پر سوار ہوکر یہ لوگ دُنیا کی سیر کرتے تھے ۔بس یہی دنیا کی حقیقت ہے۔ جو دنیا پر روناچاہے اسے چاہئے کہ وہ روئے۔ یہ سن کر ہم زارو قطار رونے لگے ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۵۱)