Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
281 - 627
اختیار کرنا خاپنے ربّ کریم پر حقیقی توکل کرنا خ لمبی لمبی امیدیں نہ لگا نا خ موت کو یاد رکھنا خ میدانِ محشر میں مالداروں سے حساب کا تصور کرنا خ سخاوت اپنانا خ صبر وقناعت سے کام لینا  خ حِرْصِ مال کے نقصانات پر غور کرنا خ مال کے حریصوں کے عبرتناک انجام اپنے پیشِ نظر رکھنا ۔ وغیرہ 
 	جسے دنیا کی حقیقت معلوم ہوگی وہ اس کے مذموم مال کی کبھی بھی حرص نہیں کرے گا آئیے!دنیا کی مذمت سے متعلق چند عبرت آموز روایات ملاحظہ کرتے ہیں : 
’’قَنَاعَت‘‘کے 5حُروف کی نسبت سے دنیا کی مَذَمَّت پرمشتمل 5روایات
(1) مچھر سے بھی زیادہ حقیر 
	حضرتِ سَیِّدُنا سَہْل بِنْ سَعْدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ  حضور سرور کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :’’ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک دنیا کی حیثیت ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔‘‘	(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی ھوان الدنیا علی اللہ، ۴/۱۴۳، حدیث:۲۳۲۷ )
 (2) صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی گِریہ وزاری 
	حضرتِ سَیِّدُنازَیْد بَنْ اَرْقَم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوبکْر صِدّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اَمیرُالْمُؤمِنِیْنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پانی منگوایا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا جس میں پانی اور شہد تھا ، آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُسے اپنے منہ کے قریب کیا پھر ہٹالیا اور رونے لگے حتی کے تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رونے لگے ، پھر صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان چُپ ہو گئے اور آپ روتے رہے پھر اپنی چادر سے اپنے چہرے کو صاف کیا اور پھر روئے یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے کلام بھی نہیں کیا جارہا تھا پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنی آنکھوں کو صاف کیا تو صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے