فرمائی تاکہ انسان اس سے دھوکا نہ کھائے ۔فرمانِ خدا وندی ہے :
کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ط فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِوَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَا زَ ط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِo (پ۴، الِ عمران: ۱۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان : ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے ، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔
گناہوں کی حرص سے بچنے کا نُسخہ
گناہوں کی حِرْص سے بچنابے حد ضروری ہے ، اس کے لئے سب سے پہلے گناہوں کی پہچان حاصل کیجئے ، پھر ان کے نقصانات پر غور کیجئے کیونکہ ہمارا نَفْس فائدے کی طرف لپکتا اور نقصان سے بھاگتا ہے ۔ اگر حقیقی معنوں میں اِحساس ہوجائے کہ ہمیں گناہوں کی کیسی ہولناک سزا ملے گی تو ہم گناہ کے خیال سے بھی بھاگیں۔حصولِ عبرت کے لئے مختلف گناہوں میں مُلَوَّث ہونے والوں کے لَرزہ خیز اَنجام کی حکایات پڑھنا بھی بے حد مفید ہے ۔
حرصِ مال بھی ایک باطنی بیماری ہے
مال کی مذموم حِرْص بھی یقینا ایک باطنی بیماری ہے جو محتاجِ علاج ہے۔ سرکارِ مدینہ، صاحب ِ معطر پسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:عنقریب میری اُمت کو پچھلی اُمتوں کی بدترین بیماری پہنچے گی جو کہ تکبر، کثرتِ مال کی حِرْص، دنیوی معاملات میں کینہ رکھنا، باہم ایک دوسرے سے بغض رکھنا اور حسد (کرنے پر مشتمل )ہے ، یہاں تک کہ وہ سَرکشی اختیار کر لے گی۔(مستدرک حاکم،کتاب البر والصلۃ ، باب داء الامم …الخ، ۵/۲۳۴، حدیث:۷۳۹۱)
حرصِ مال کاعلاج کیسے کیا جائے؟
مال کی مذموم حِرْص کے علاج کے لئے ان باتوں پر عمل کرنا بے حد مفید ہے
خبارگاہِ الٰہی میں حِرْص سے بچنے کی دعاکرناخخواہشات کو کنٹرول کرنا خ اخراجات میں میانہ روی