میں بھی دی۔ چنانچہ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قُلۡ لَّوْ اَنۡتُمْ تَمْلِکُوۡنَ خَزَآئِنَ رَحْمَۃِ رَبِّیۡۤ اِذًا لَّاَمْسَکْتُمْ خَشْیَۃَ الۡاِنۡفَاقِ ؕ وَکَانَ الۡاِنۡسٰنُ قَتُوۡرًا ﴿۱۰۰﴾ (پ۱۵، بنی اسرائیل: ۱۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان :تم فرماؤ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو انہیں بھی روک رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہوجائیں اور آدمی بڑا کنجوس ہے ۔
پس یہ آیت ابن آدم کے انتہائی حَرِیْص (لالچی) اور بخیل ہونے پردلیل ہے ، ابن ِآدم اس پرندے سے بھی زیادہ بخیل ہے جو ساحلِ سمندر پر اس خوف سے پیاسا مر جاتا ہے کہ کہیں پانی پینے سے پانی ختم نہ ہو جائے اور اس کیڑے سے بھی زیادہ بخیل ہے جس کی خوراک مٹی ہے لیکن وہ اس خوف سے بھوکا مر جاتا ہے کہ کہیں کھانے سے مٹی ختم نہ ہو جائے ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، الفصل الاول، ۹/۱۲۴، تحت الحدیث:۵۲۷۳)
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں : حدیث کے معنی یہ ہیں کہ انسان دنیا پر حَرِیْص (لالچی) ہی رہے گا حتی کہ اس کی موت آجائے اور اس کے پیٹ کو قبر کی مٹی ہی بھرے گی ، غالبا ًیہ حدیث انسان کے دنیا پر حَرِیْص ہونے کے حکم کے بارے میں وارد ہوئی ہے اور اس کی تائید حدیث شریف کے اس حصے سے بھی ہوتی ہے کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے جو توبہ کرتا ہے‘‘ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے لالچی انسان کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے جس طرح دیگر گناہ گاروں کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الزکاۃ، باب کراھۃ الحرص علی الدنیا،۴/۱۳۹، الجزء السابع)
حدیثِ مذکور میں انسان کے انتہائی حریص ہونے کا بیان ہے کہ اُسے چاہے کتنا ہی مال دے دیا جائے لیکن وہ قناعت نہیں کرے گا۔ اس کی حِرص کو صرف موت ہی ختم کر سکتی ہے کیونکہ مرنے کے بعد اس پر مال ودنیا کی حقیقت واضح ہوجائے گی ۔ سمجھدار انسان کبھی بھی دنیا کے چکر میں پھنس کر اپنے خالقِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل نہیں ہو تا بلکہ غفلت میں ڈالنے والی ہر شے سے وہ کَوسوں دور بھاگتا ہے ۔ شریعتِ مُطَہَّرَہ نے دنیا کی بہت مذمت بیان