حرص کسی بھی چیز کی ہوسکتی ہے
عام طور پر یہی سمجھا جاتاہے کہ حِرْص کا تعلق صِرْف ’’مال ودولت ‘‘ کے ساتھ ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ حِرْص تو کسی شے کی مزید خواہش کرنے کا نام ہے اور وہ چیز کچھ بھی ہوسکتی ہے،چاہے مال ہو یا کچھ اور!چنانچہ، مزید مال کی خواہش رکھنے والے کو ’’مال کا حریص‘‘ کہیں گے تو مزید کھانے کی خواہش رکھنے والے کو ’’کھانے کا حریص ‘‘ کہا جائے گااور نیکیوں میں اِضافے کے تمنائی کو ’’نیکیوں کا حریص ‘‘ جبکہ گناہوں کا بوجھ بڑھانے والے کو’’ گناہوں کا حریص ‘‘کہیں گے ۔حضرتِ علامہ عبدالمُصطَفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی لکھتے ہیں : لالچ اور حِرْص کا جذبہ خوراک ،لباس، مکان،سامان، دولت،عزت، شہرت الغرض ہر نعمت میں ہوا کرتا ہے۔ (جنتی زیور ،ص۱۱۱ملخصًا)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
مال کے حریص کی توبہ بھی قبول ہے
اِبْنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : جس طرح اللہعَزَّوَجَلَّدوسرے گنا ہ گاروں کی توبہ قبول فرماتا ہے اسی طرح دنیوی مال کے حریص کی توبہ بھی قبول فرما لیتا ہے ۔ اس حدیث پاک میں مال جمع کرنے ، مال کی تمنا کرنے اور مال کی لالچ کی مذمت کی طرف اشارہ ہے ۔ علامہ طِیْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ القَوِی فرماتے ہیں : ممکن ہے کہ اس حدیث پاک کا یہ مطلب ہو کہ انسان فطری طور پر مال کی کثرت کو پسند کرتا ہے اور اس کی ہَوَس کا پیٹ کبھی بھی نہیں بھرتا سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ بچائے اور جن کی فطرت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ مال کی ہَوَس زائل فرما دے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔(فتح الباری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال …الخ، ۱۲/۲۱۶، تحت الحدیث:۶۴۳۹)
انسان فِطرتاً حریص ہے
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی اَلْقَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی تنبیہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک ایسا بخل ہوتا ہے جو اسے حَرِیْص (لالچی) بناتا ہے جیسا کہ اس کی خبر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قراٰن