حدیث نمبر: 23 حرصِ مال کی مَذَمَّت
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَاأَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِیاً مِنْ ذَہَبٍ أحَبَّ أَنْ یَّکُونَ لَہُ وَادِیانِ، وَلَنْ یَمْلَا فَاہُ إِلاَّ التُّرَابُ، وَیَتُوْبُ اللہُ عَلٰی مَنْ تَابَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال …الخ، ۴/ ۲۲۹، حدیث: ۶۴۳۹-۶۴۳۷)(مسلم، کتاب الزکاۃ، باب لو ان لابن ادم، ص۵۲۲، حدیث:۱۰۴۹)
ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عبَّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو توچاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے توبہ کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّاس کی توبہ قُبول فرماتاہے۔
انسان کی حرص ختم نہیں ہوتی
عَلَّامہ اِبنِ بَطّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : اس حدیث میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انسان کی مالی حرص کو بیان فرمایا کہ اس کی کوئی انتہا نہیں جس پر وہ قَناعَت کرے یا اس کی حِرْص ختم ہو جائے۔ پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مزید فرمایا کہ ابنِ آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے یعنی جب وہ مر کر اپنی قبر میں جائے گا تو قبر کی مٹی ہی اس کے پیٹ کو بھر ے گی ۔( آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے) اس قول میں دنیوی مال پر حرص کی مذمت کی طرف اشارہ ہے ، اسی لئے بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اس فانی دنیا سے کَنارہ کَشی کرتے اور بقدرِ ضرورت ہی اس میں سے کچھ لیتے ۔
(شرح لابن بطال، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنۃ المال …الخ، ۱۰/۱۶۰)
حِرْص کسے کہتے ہیں ؟
کسی چیز سے سیر نہ ہونا اورہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنے کو حرص اور حِرص رکھنے والے کو’’ حَرِیص‘‘ کہتے ہیں۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۷/۸۶ )