، اللہ عَزَّوَجَلَّنے تجھے نیکی کے دروازے پر آنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ، آج تیرے گناہ معاف کر دیئے جائیں تو تیرے لئے کتنی بڑی سعادت ہے! (لہٰذا تو بارگاہِ الٰہی میں سچی توبہ کر لے)۔ نوجوان نے پھرچیخ ماری اور غش کھا کر زمین پر گِر گیا۔ جب اِفاقہ ہوا تو عرض کرنے لگا: یاسَیِّدی ! کیا مجھ سے گُزَشتہ گناہوں کا مُواخَذہ ہو گا؟ کہا: نہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! خالِص مَحَبَّت کتنی عمدہ ہے! مُحِبِّینکے لئے دُوری کے بعدلذّتِ قُرب کتنی اچھی ہے ! پھر قرب کے بعدہِجْرو فِراق کی گھڑی کتنی شدید ہے! اے ( اللہعَزَّوَجَلَّ سے کئے ہوئے )عہد ِ مَحَبَّت کو بھولنے والے! تو نے اپنے ربّعَزَّوَجَلَّسے مُعامَلہ کیا پھر غفلت کی میٹھی نیند سو گیا، تُو کس فُضول کام میں مشغول ہے؟ تُو نے تو اپنا مقصود ضائع کر دیا۔ آج ہی نیکیوں پر کمربستہ ہو جا اور گُزَشتہ گناہوں کو ترک کر دے اوردَروَیشی اِختیار کر لے۔ تیرے سابِقہ گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔اِس پر نوجوان کے آنسو بہہ نکلے اور اس کے دوست بھی رونے لگے پھر اُنہوں نے توبہ کی اور لباسِ زیب وزینت اُتار پھینکا۔نوجوان نے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے حضور سچی توبہ کی اور اپنے پچھلے بُرے اَفعال پر بے حد شرَمسار ہوا۔ اس نے ساری رات آہ وبُکا، گِریہ وزاری اور حَسرت ونَدامَت سے پچھاڑیں کھاتے ہوئے دَرویش فقیر کے پاس گزار ی۔جب سَحری کا وقت ہوا تواسے پھر اپنے گناہ اور نافرمانیاں یاد آگئیں۔ چنانچہ، اس کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی اور آنکھوں سے سَیلِ اَشک رواں ہو گیا اور اس پر غشی طاری ہو گئی۔جب فقیر نے اُسے حرکت دے کر دیکھا تو وہ دنیائے فانی سے رخصت ہو چکا تھا۔ (الروض الفائق، المجلس الحادی والاربعون فصل فی جملۃ نصائح، ص۲۲۹)
مدنی گلدستہ
بقیع کے 4 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4 مدنی پھول
(1) جو بندہ جتنا زیادہ نیک ہوتا ہے اسے اپنے گناہوں پر اتنی ہی زیادہ ندامت ہوتی ہے ۔
(2) دینِ اسلام نے جَرائم کی جو سزائیں مقرر کی ہیں اگر وہ نافِذ ہوجائیں تو مُعاشَرہ اَ مْن کا گہوارہ بن جائے ۔