خداوندی میں عرض گزار ہوا :’’اے ہمارے پَروَرْدگارعَزَّوَجَلَّ! تو نے ہمیں پیدا فرمایا اور تو ہی ہمارے رزق کا کفیل ہے ۔ ہمیں بارانِ رحمت عطا فرما ۔‘‘ ابھی وہ شخص دعا سے فارغ بھی نہ ہونے پایا تھا کہ ایسی بارش آئی گویا آسمان پھٹ پڑا ہو۔
(ملخصاً عیون الحکایات، الحکایۃ الخامسۃ والاربعون ،ص۶۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
شرابی نو جوان کی توبہ
شہرِبصرہ میں رضوان نامی ایک آوارہ و سرکش ،شرابی نوجوان رہتا تھا ۔ایک مرتبہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شراب کے نشے میں مَدہوش تھا ، کہ ایک دَرویش کچھ عربی اشعار پڑھتا ہوا وہاں سے گزرا اشعار کا مفہوم کچھ اسطرح ہے:جب تو کسی دن لوگوں سے الگ کسی جگہ تنہا ہو تو یہ نہ کہہ کہ میں تنہا ہوں اور مجھے کو ئی نہیں دیکھ رہا بلکہ یوں کہہ کہ مجھ پر ایک نگہبان ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کو لمحہ بھر کے لئے بھی ہر گز غافل نہ جاننا اور نہ یہ گمان کر نا کہ اس سے کوئی چھپی ہوئی بات پوشیدہ ہے۔
یہ نصیحت آموز اشعا رسن کر نوجوان زاروقطار رونے لگا اور دَرویش کو اللہ عَزَّوَجَلَّکاواسطہ دے کردوبارہ وہی اشعار پڑھنے کو کہا۔ اس نے وہی اشعاردوبارہ پڑھے تو نوجوان نے کہا : یا سَیِّدی! اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !آپ کی زِیارت ہمارے لئے باعث ِ سعادت ہے، اپنی درد بھری آواز میں مزیدنصیحت آموز اشعار سنا کر ہماری زندگی کو پاکیزہ وستھرا کر دیجئے ۔ چنانچہ، درویش نے مزید کچھ اشعار سنائے جن کا مفہوم کچھ اس طرح ہے :
اللہ عَزَّوَجَلَّکارِزْق کھاکر بھی تُو اُس کی نافرمانی کرتاہے، جب تو ا ُس کی مخلوق سے چُھپتا ہے تووہ تجھے دیکھ رہا ہوتا ہے، اے انسان! اللہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی سے بچ، توجو بھی گناہ کرتا ہے وہ تجھے دیکھ رہا ہوتاہے اور جانتاہے۔
یہ سن کر نوجوان پھر رونے لگا اور بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ جب اُسے ہوش آیا تو اُس نے شراب کے برتن توڑ ڈالے اور عرض کی: یاسَیِّدی! کیا میری توبہ قُبول ہو جائے گی؟ دَرویش نے کہا :یہ رب عَزَّوَجَلَّ سے صُلْح کی گھڑی ہے،