Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
273 - 627
کوڑے ہیں۔ ثبوتِ زنا یا تو چار مردوں کی گواہیوں سے ہوتا ہے یا زِنا کرنے والے کے چار4 مرتبہ اقرار کر لینے سے پھر بھی امام بار بار سوال کرے گا اور دریافت کرے گا کہ زِنا سے کیا مراد ہے کہاں کیا ، کس سے کیا ، کب کیا ؟ اگر اِن سب کو بیان کر دیا تو زنا ثابت ہو گا ورنہ نہیں اور گواہوں کو صراحتہً اپنا معائنہ بیان کرنا ہوگا بغیر اس کے ثبوت نہ ہوگا ۔ لَواطت ،زِنا میں داخل نہیں ، لہٰذا اس فعل سے حد واجب نہیں ہوتی لیکن تعزیر واجب ہوتی ہے اور اس تعزیر میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے چندا قوال مروی ہیں :(۱)آ گ میں جلا دینا (۲)غرق کر دینا (۳)بلندی سے گرانا اور اوپر سے پتھر برسانا، فاعل و مفعول دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ (خزائن العرفان پ ۱۸ ،سورۃ النور:۲)
	اللہعَزَّوَجَلَّ کے ایسے مقبول بندے بھی ہیں جو گناہوں سے کوسوں دور بھاگتے ہیں اوراگر ان سے کوئی ایسا عمل سرزدہو جائے جو کسی گناہ کی طرف لے جانے والا ہو تو وہ اپنے آپ کو ایسی سزا دیتے ہیں کہ ہم اس کے بارے میں سوچ کر بھی کانپ جاتے ہیں۔ چنانچہ، منقول ہے کہ 
 انوکھی سزا 
	ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامشہر سے باہر تشریف لائے تاکہ لوگوں کے لئے بارش طلب کریں لیکن اللہعَزَّوَجَلَّنے وَحی فرمائی : اے عیسیٰ! بارش کا مطا لَبہ نہ کرو کیونکہ تمہارے ساتھ خطاکار ہیں۔ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں اس بات کی خبر دی اور اِعلان فرمایاکہ ہمارے ساتھ جو بھی گنہگار ہے وہ جدا ہو جائے۔یہ سن کر صرف ایک آدمی بچاجس کی ایک آنکھ تھی باقی سب چلے گئے۔ آپ نے اس سے پوچھا:تم   کیوں نہیں گئے؟ اس نے عرض کی :اے رُوحُ اللہ(عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام)! میں نے ایک لمحہ بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کی،ہاں ! ایک دن بِلا اِرادہ ایک عورت کے پاؤں پر نظر پڑی تھی تو میں نے اپنی ایک آنکھ نکال دی ،اگر دوسری آنکھ بھی پڑتی تو اُسے بھی نکال پھینکتا۔ یہ سن کرحضرت سیِّدُناعیسیٰ  َعلَیْہِ السَّلَامرونے لگ گئے یہاں تک کہ آنسوؤں سے رِیش (داڑھی) مبارک تَر ہو گئی۔پھر فرمایا: ہمارے لئے دعاکر، توساری زندگی گناہوں سے بچتا رہا ہے ۔ چنانچہ وہ بارگاہ ِ