Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
272 - 627
	قراٰن کریم میں زِنا کی سزا بیان کرتے ہوئے خدائے بزرْگ وبَرْتر نے ارشاد فرمایا: 
اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ فَاجْلِدُوۡا کُلَّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ ۪ وَّ لَا تَاۡخُذْکُمۡ بِہِمَا رَاۡفَۃٌ فِیۡ دِیۡنِ اللہِ اِنۡ کُنۡتُمْ تُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِۚ وَ لْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَآئِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۲﴾ (پ ۱۸، النور:۲)
ترجمۂ کنزالایمان:جو عورت بدکار ہو اور جو مرد ، تو ان میں ہرایک کو سو کوڑے لگاؤ اور تمہیں ان پرترس نہ آئے اللہ کے دین میں اگر تم ایمان لاتے ہو اللہ اور پچھلے دن پر اور چاہیے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ حاضر ہو۔ 
	  صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :یہ خِطاب حُکّام کو ہے کہ جس مرد یا عورت سے زِنا سرزد ہو اس کی حد(شرعی سزا) یہ ہے کہ اسے سو(100) کوڑے لگاؤ ،یہ حد حُرِّ غیرِمُحْصِن (یعنی آزاد کنوارے)کی ہے کیونکہ حُرِّمُحصِن(یعنی آزاد شادی شدہ)  کا حکم یہ ہے کہ اس کو رَجم کیا جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ حضرتِ ماعِزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بحکمِ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رجم کیا گیا اورمُحْصِن’’ وہ آزاد مسلمان ہے جو مُکلَّف ہو اور نکاحِ صحیح کے ساتھ صحبت کر چکا ہو خواہ ایک ہی مرتبہ‘‘ ایسے شخص سے زنا ثابت ہو تو رجم کیا جائے گا اور اگر ان میں سے ایک بات بھی نہ ہو مثلاً حُر نہ ہو یا مسلمان نہ ہو یا عاقل بالغ نہ ہو یا اس نے کبھی اپنی زوجہ کے ساتھ صحبت نہ کی ہو یا جس کے ساتھ کی ہو اس کے ساتھ نکاحِ فاسد ہوا ہو تو یہ سب غیر محصِن میں داخل ہیں اور ان سب کا حکم کوڑے مارنا ہے ۔مرد کوکَوڑے لگانے کے وقت کھڑا کیا جائے اور اس کے تمام کپڑے اتار دیئے جائیں سوا تہبند کے اور اس کے تمام بدن پر کوڑے لگائے جائیں سوائے سر ،چہرے اور شرم گاہ کے ، کوڑے اس طرح لگائے جائیں کہ اَلم  گوشت تک نہ پہنچے اور کوڑا مُتَوَسِّط درجہ کا ہو اور عورت کو کوڑے لگانے کے وقت کھڑا نہ کیا جائے نہ اس کے کپڑے اتارے جائیں۔البتہ اگر پوستین یا روئی دار کپڑے پہنے ہوئے ہو تو اتار دیئے جائیں ، یہ حکم حُر اور حُرَّہ کا ہے یعنی آزاد مرد اور عورت کا اور باندی، غلام کی حد اس سے نصف یعنی پچاس50