Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
271 - 627
میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ جہاں اس دینِ برحق نے نیک اعمال پراجرِعظیم کی خوشخبری سنائی وہیں گناہوں کے ارتکاب پردُنیوی و اُخروی سزائیں بھی مقرر فرمائیں تاکہ برائی کاتَدارُک( روک تھام )ہوسکے ۔ انسانوں کی طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں کوئی صرف رضائے الٰہی پانے کے لئے برائی سے بچتا ہے توکوئی غضبِ الٰہی اورآخرت کے خوف سے گناہوں سے  مُجْتَنِبْ(بچا) رہتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آخرت کی وَعیدوں کو دُور جاننے کی وجہ سے غفلت کے عَمِیْق (گہرے)گڑھے میں پڑے رہتے ہیں۔چونکہ دُنیوی سزائیں فوری ملتی ہیں اس لئے وہ اِن سزاؤں کے خوف سے برائیوں سے بچتے ہیں اوراس طرح معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ لہٰذا اِسلام نے مختلف گناہوں کی جو دُنیوی سزائیں مقررکیں ہیں وہ مَعاذَاللہ ظلم نہیں بلکہ ظلم وسِتم کا قَلع قَمع کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ جب کسی ایک کو سزا ملے گی تو ا سے دیکھنے والے سب عبرت حاصل کریں گے۔ زنا ایسا جرم ہے کہ جس کی وجہ سے انسانی نسب خراب ہوتاہے، شریعتِ مُطَہَّرہ نے حفظ ِنسب کو بڑی اَہمیت دی ہے، لہٰذا جو اِس میں خرابی کا باعث بنے گا ۔اسے قہرِ خُداوندی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ زنا کی حرمت کے بارے میں قراٰن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤی اِنَّہٗ کَانَ فٰحِشَۃً ؕ وَسَآءَ سَبِیۡلًا ﴿۳۲﴾ (پ۱۵، بنی اسرائیل الاسراء:۳۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ ۔
 ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوۡنَ النَّفْسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوۡنَۚ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾ یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیۡہٖ مُہَانًا ﴿٭ۖ۶۹﴾ (پ ۱۸، الفرقان: ۶۹۔۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے، اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گابڑھایا جائے گا اس پر عذاب قیامت کے دن، اور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا۔