جو توبہ کرلے اُسے مَلامَتْ نہیں کرنی چاہئے
حضرت سَیِّدُنااِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شَرحِ مسلم میں فرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اس عورت کے ولی کو یہ کہنا کہ تم اسے اچھی طرح رکھو اور جب بچے کی ولادت ہوجائے تو اسے میرے پاس لے آنا، یہ نرمی دو سبب سے تھی(1) تاکہ اس کے عزیز واقربا غیرت وعار کی بِنا پر اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں (2) چونکہ لوگ ایسی عورتوں سے نفرت کرتے اور انہیں بُرا بھلا کہتے ہیں ،لیکن اس عورت نے سچی توبہ کر لی تھی اس لئے اس کے ساتھ نرمی کا حکم دیا ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب حد الزنا، باب قبول توبۃ القاتل وان کثر، ۶/۲۰۵، الجزء الحادی عشر)
خوش بخت ہیں وہ لوگ جنہیں اپنے گناہوں پر سچی ندامت نصیب ہوجاتی ہے اور یہی ندامت ان کی معافی کا باعث بن جاتی ہے ۔ جو جتنا نیک ہوگا اُسے اپنے گناہ پر اتنی ہی زیادہ ندامت ہوگی ۔ بتقاضائے بشریت جب اُس عورت سے گناہ سرزد ہوا تو اسے اپنے اس فعل پر ایسی ندامت ہوئی کہ اپنے آپ کو رجم کے لئے پیش کر دیا ۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّم نے اسے بچے کی پیدائش کے بعد آنے کا حکم فرمایاکیونکہ حاملہ کو رجم کرنے کی صورت میں ایک جان بلا کسی وجہ کے ضائع ہوتی ۔بچے کی ولادت کے بعد جب وہ دوبارہ حاضرِ خدمت ہوئی تو اسے رجم کیا گیااور میرے آقا مدینے والے مصطفیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖٖ وَسَلَّمنے اس کی توبہ کے بارے میں فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ مدینہ منورہ کے ستّر70 آدمیوں پر تقسیم کی جائے تو اُن کی بخشش کے لئے کفایت کرے۔ کیااس سے بڑھ کر کوئی بات ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر اس نے اپنی جان قربان کردی۔ مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : یہاں توبہ کو مادی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے کہ اس کے لیے تقسیم کا ذکر فرمایا اور ہوسکتا ہے کہ تقسیمِ توبہ سے مراد اس کے ثواب کی تقسیم ہے ۔اس دوسری توجیہ کو مرقات نے ترجیح دی ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵/۲۸۵)
گناہوں پر دُنیوی سزائیں کیوں رکھی گئیں ؟
دینِ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے،اس پر عمل پیرا ہونے کی برکت سے دنیا وآخرت کے ہر میدان